ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے مدمقابل آنے کے امکانات روشن ہو گئے۔ امارات کرکٹ بورڈ (ECB) کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے کہا ہے کہ اگرچہ وہ "گارنٹی” نہیں دے سکتے، لیکن اس بات کا کوئی خطرہ نہیں کہ دونوں ٹیمیں آپس میں نہ کھیلیں۔

ایونٹ 9 سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا، جس میں پاکستان اور بھارت کا پہلا ٹاکرا 14 ستمبر کو طے ہے۔ دونوں ٹیمیں سپر فور مرحلے میں دوبارہ آمنے سامنے آ سکتی ہیں، اور امکان یہ بھی ہے کہ فائنل میں ایک بار پھر روایتی جنگ چھڑ جائے۔ حالیہ دنوں انگلینڈ میں منعقدہ نجی ٹورنامنٹ ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز میں بھارت نے لیگ مرحلے اور سیمی فائنل دونوں میں پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کر دیا تھا، جس سے ایشیا کپ میں بھی ایسی صورتِ حال کا خدشہ پیدا ہوا۔ تاہم ایونٹ منتظمین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایشیا کپ کسی رکاوٹ کا شکار نہیں ہوگا۔ سبحان احمد نے وضاحت دی کہ ایشیا کپ کا موازنہ نجی ایونٹس سے نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیموں کی شرکت سے پہلے حکومتوں کی اجازت لی گئی تھی اور شیڈول جاری کرنے سے پہلے تمام رسمی تقاضے پورے کیے گئے تھے، لہٰذا "ڈبلیو سی ایل” جیسی صورتحال کا کوئی امکان نہیں۔ سیکیورٹی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ فی الحال اضافی سیکیورٹی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، لیکن اگر حکومتی اداروں نے حکم دیا تو فوری عمل کیا جائے گا۔ "ہم ٹورنامنٹ کے شاندار انعقاد کے لیے مکمل تیار ہیں۔” یاد رہے کہ 2018 سے اب تک کھیلے گئے 4 میں سے 3 ایشیا کپ ٹورنامنٹس کی میزبانی متحدہ عرب امارات کر چکا ہے۔







Discussion about this post