فلمی دنیا میں جدت کی لہر نے جہاں کئی در وا کیے ہیں، وہیں کچھ دروازے ایسے بھی کھلے ہیں جن کے پیچھے سوالات، خدشات اور تحفظات کی ایک طویل قطار کھڑی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جب 2013 کی مقبول اور دل چھو لینے والی ساؤتھ انڈین فلم رانجھنا کے آخری سین کو مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تبدیل کر کے دوبارہ ریلیز کر دیا گیا۔ لیکن یہ قدم فلم کے اصل ہیرو دھنوش کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھا۔دھنوش، جنہوں نے "رانجھنا” میں اپنی پرفارمنس سے ناظرین کے دلوں میں ایک ناقابلِ فراموش مقام حاصل کیا، اس تبدیلی پر پھٹ پڑے۔ سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے لکھا:
"یہ وہ فلم نہیں جس سے میں 12 سال قبل جڑا تھا۔ AI کے ذریعے اس کے انجام کو بدل دینا فنکاروں کی محنت، احساس اور جذبات کی توہین ہے۔ یہ نہ صرف فنکاروں کے لیے، بلکہ سینما کی روح کے لیے بھی ایک خطرناک مثال ہے۔”

اداکار نے مطالبہ کیا کہ ایسی بے لگام تکنیکی مداخلتوں کے خلاف قانون سازی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی تخلیقی شاہکار کے ساتھ یوں کھلواڑ نہ کیا جا سکے۔فلم کے ہدایتکار آنند ایل رائے بھی اس اچانک اور خودساختہ تبدیلی پر نالاں نظر آئے۔ انہوں نے اس اقدام کو "غیر ذمہ دارانہ، ناقابلِ قبول اور خوفناک” قرار دیتے ہوئے کہا:
"نہ مجھ سے مشورہ کیا گیا، نہ میری ٹیم کو اطلاع دی گئی۔ کسی بھی تخلیق کار کی اجازت کے بغیر اس کی تخلیق کو مسخ کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ یہ فلمی ورثے کی توہین ہے۔”
یہ معاملہ ایک بڑی بحث کو جنم دے چکا ہے: کیا ٹیکنالوجی کو اتنی آزادی دی جا سکتی ہے کہ وہ تخلیق کاروں کے جذبات، محنت اور فن کو نظرانداز کر کے کہانیوں کے انجام تک کو بدل دے؟







Discussion about this post