الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 9 مئی کے واقعات میں سزا یافتہ 9 اہم سیاسی رہنماؤں کو اسمبلی رکنیت سے نااہل قرار دے کر سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق نااہل قرار دیے گئے افراد میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز شبلی فراز اور عمر ایوب، سابق وفاقی وزیر زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا، رائے حسن نواز، رائے حیدر علی، انصر اقبال، جنید افضل، اور رائے محمد مرتضیٰ اقبال شامل ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پانچ قومی اسمبلی ارکان، ایک سینیٹر اور پنجاب اسمبلی کے تین اراکین کو باقاعدہ طور پر ڈی نوٹیفائی کر کے ان کی نشستیں خالی قرار دے دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ اُن عدالتی سزاؤں کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے سانحات سے جڑے تین مقدمات میں سنائی تھیں۔

عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے 196 رہنماؤں اور کارکنان کو 5 سے 10 سال قید کی سزائیں سنائیں، جن میں ان اعلیٰ سطحی سیاستدانوں کے نام بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ لاہور، راولپنڈی، اور دیگر شہروں میں سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا، فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے، اور جناح ہاؤس (کور کمانڈر ہاؤس) کو نذر آتش کیا گیا۔ ان واقعات میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 سے زائد زخمی ہوئے۔ ریاستی اداروں پر حملوں، عوامی و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت 1900 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ بانی پی ٹی آئی اور جماعت کے کئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ جہاں ایک اہم آئینی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، وہیں مستقبل کی سیاست میں بڑے رد و بدل کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔







Discussion about this post