اسلام آباد ہائی کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو قیمتی اثاثے نیلام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔یہ فیصلہ چیف جسٹس سرفراز احمد ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا، جس میں عدالت نے نیب کی کارروائی کو قانونی قرار دیتے ہوئے نیلامی کے خلاف دائر تمام درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نیب کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی میں کوئی غیر قانونی پہلو نظر نہیں آیا، اس لیے نیلامی کو روکا نہیں جا سکتا۔
بحریہ ٹاؤن کا مؤقف
دوران سماعت بحریہ ٹاؤن کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اپنایا کہ بحریہ ٹاؤن خود نیب کا کوئی ملزم نہیں، اور نہ ہی اس کے خلاف براہ راست کوئی کارروائی ہو رہی ہے، اس لیے اس کی جائیدادیں نیلام نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جائیدادیں زین ملک کی ضمانت کے طور پر رکھی گئی تھیں، جنہوں نے پلی بارگین کی تھی، مگر اب وہ اس معاہدے کو منسوخ کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے نیب کے نوٹس کو بدنیتی پر مبنی اور قانونی تقاضوں کے خلاف قرار دیا، اور کہا کہ پہلے نیب نے کہا تھا کہ وہ نیلامی کا ارادہ نہیں رکھتے، مگر بعد میں اچانک نوٹس جاری کر دیا گیا۔
نیب کا مؤقف
نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ زین ملک اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں اور بحریہ ٹاؤن نے ان کی ضمانت دی تھی، اس لیے قانونی طور پر ضامن کی جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ زین ملک نے پلی بارگین کے تحت جو اقساط ادا کرنی تھیں، وہ جمع نہیں کرائیں، جس پر پلی بارگین کی منسوخی کا عمل شروع کیا گیا۔ نیلامی اسی قانونی طریقہ کار کا حصہ ہے۔ نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیلامی کا پورا عمل شفاف ہوگا اور حاصل شدہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔







Discussion about this post