امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے درجنوں ممالک پر نئی تجارتی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو 7 اگست سے نافذ ہوں گے۔پاکستان پر 19 فیصد جبکہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے۔ اس طرح پاکستان کو جنوبی ایشیا میں بھارت کے مقابلے میں واضح رعایت ملی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، نئی پالیسی کے تحت:
-
جن ممالک سے امریکا کو تجارتی فائدہ ہوتا ہے، اُن پر صرف 10 فیصد ٹیرف ہوگا۔
-
جن ممالک سے تجارتی خسارہ ہے، اُن پر 15 فیصد یا اس سے زیادہ ٹیرف لگے گا۔
اہم ٹیرف کی شرحیں:
-
پاکستان: 19٪
-
بھارت: 25٪
-
بنگلہ دیش: 20٪
-
عراق: 35٪
-
میانمار: 40٪
-
شام: 41٪ (سب سے زیادہ)
ٹرمپ کے اس فیصلے کا مقصد امریکی معیشت کو فائدہ پہنچانا اور عالمی تجارتی نظام پر امریکا کا اثر بڑھانا ہے۔ ان محصولات کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے اور ان میں کئی ملکوں کے ٹیرف میں اضافہ کیا گیا ہے۔
دیگر ممالک پر اثرات:
-
کینیڈا پر ٹیرف 25 سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا ہے۔
-
اسرائیل پر بھی 15 فیصد ٹیرف لگا ہے۔
-
تھائی لینڈ پر 19 فیصد اور سوئٹزرلینڈ پر 39 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔
-
چین کے لیے 12 اگست کی ڈیڈلائن رکھی گئی ہے۔
بعض قریبی اتحادی ممالک جیسے جاپان، ویتنام، جنوبی کوریا، فلپائن اور برطانیہ نے امریکا سے خصوصی مذاکرات کے بعد رعایت حاصل کر لی ہے۔







Discussion about this post