مونس علوی نے جاری بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ تعلقات میں دیانت داری اور وقار کو مقدم رکھا ہے اور حالیہ فیصلہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی عمل اور اداروں کا احترام کرتے ہیں، تاہم فیصلے کے نتائج ان کے تجربے میں آنے والی اصل صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔ سی ای او کے-الیکٹرک کا کہنا تھا کہ وہ اپنے قانونی مشیروں کے ساتھ فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپیل کے حق کا استعمال کریں گے۔ "انصاف اور کام کی جگہ پر وقار کے اصولوں کا میرا احترام غیر متزلزل ہے”، مونس علوی کا مزید کہنا تھا۔ انہوں نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جو انہیں جانتے ہیں، ان کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور جو قانونی طریقہ کار پر یقین رکھتے ہیں۔یادر رہے کہ محتسب اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) شاہ نواز طارق نے کے-الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی کو ایک خاتون صارف کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹانے اور 25 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مونس علوی نے شکایت کنندہ کو ہراساں کیا اور ذہنی اذیت پہنچائی۔ اگر وہ ایک ماہ کے اندر جرمانے کی رقم ادا نہیں کرتے تو ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لی جائے گی، جبکہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔خیال رہے کہ کے-الیکٹرک کی جانب سے رواں ماہ جاری اعلامیے کے مطابق مونس علوی کو 30 جولائی 2025 سے ایک بار پھر کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ 2008 سے کے-الیکٹرک سے منسلک ہیں اور ماضی میں مختلف کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔







Discussion about this post