پنجاب پر قدرتی آفت جیسے ٹوٹ پڑی ہے۔ ریکارڈ بارشوں نے نہ صرف زمین کو جل تھل کر دیا بلکہ درجنوں گھرانوں کو ماتم زدہ چھوڑ دیا۔ صرف گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران صوبے میں 71 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ 25 جون سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 123 ہو چکی ہے۔ زخمیوں کی تعداد 462 سے تجاوز کر چکی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق موسلا دھار بارشوں نے شہری سیلاب کی صورت میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے۔ گھروں میں پانی داخل ہو گیا، سڑکیں تالاب بن گئیں اور درجنوں دیہات بجلی سے محروم ہو گئے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 20 جولائی سے بارشوں کا نیا سلسلہ ملک بھر میں داخل ہوگا جس کے باعث شہری سیلاب، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
دریائے سندھ میں طغیانی، کالا باغ و چشمہ میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ
پی ڈی ایم اے نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ کے حساس مقامات کالا باغ اور چشمہ ، پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے۔ متعلقہ حکام کو الرٹ رہنے اور ہنگامی اقدامات کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔
سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق، پوٹھوہار ریجن میں سیلاب کے شکار علاقوں سے 1,000 سے زائد افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے، جن میں جہلم، چکوال اور راولپنڈی کے رہائشی شامل ہیں۔ کئی علاقوں میں لوگ بدستور پھنسے ہوئے ہیں جہاں ریسکیو ٹیمیں مسلسل سرگرم ہیں۔
دکھ بھری داستانیں
چکوال، جو حالیہ بارشوں سے شدید متاثر ہوا ہے، وہاں کئی جانیں پانی کی نذر ہو گئیں۔ ایک شخص چھت گرنے سے جاں بحق ہوا جبکہ دو دیگر افراد طغیانی میں بہہ گئے۔ لاہور، چنیوٹ، اوکاڑہ اور سرگودھا میں بھی افسوسناک اموات رپورٹ ہوئیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق پنوال گاؤں میں بہہ جانے والے تصدق حسین کی لاش دو دن بعد ملی۔ آرا گاؤں میں سوتے ہوئے ایک نوجوان محمد زبیر چٹان گرنے سے دب کر موقع پر جاں بحق ہوا۔
بجلی غائب، اندھیرا چھا گیا
چکوال کے کئی دیہات گزشتہ تین روز سے بجلی سے محروم ہیں۔ بارشوں کے باعث 99 ہائی ٹینشن پول، 48 لو ٹینشن پولز اور 65 ٹرانسفارمرز کو نقصان پہنچا ہے۔ آئیسکو حکام کے مطابق بجلی کی مکمل بحالی میں مزید 48 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
نیا خطرہ منڈلا رہا ہے
محکمہ موسمیات نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں 19 سے 25 جولائی کے درمیان موسلادھار بارشوں کا نیا سلسلہ داخل ہو رہا ہے۔ سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے درجنوں اضلاع شدید بارشوں کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
خطرے کی نشاندہی:
-
پنجاب: راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، چکوال، سرگودھا، بہاولپور، ڈی جی خان، مظفرگڑھ سمیت 30 سے زائد اضلاع
-
خیبرپختونخوا: سوات، چترال، مالاکنڈ، پشاور، بنوں، ٹانک، وزیرستان
-
سندھ: کراچی، حیدرآباد، بدین، عمرکوٹ، تھرپارکر، دادو
-
بلوچستان: لسبیلہ، خضدار، کوئٹہ، زیارت، قلعہ عبداللہ
-
کشمیر و گلگت بلتستان: نیلم، مظفرآباد، ہنزہ، اسکردو، گلگت
محکمہ موسمیات نے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں کی بندش کی پیشگوئی کی ہے۔
اپیل برائے احتیاط:
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نشیبی علاقوں سے بروقت انخلا یقینی بنائیں اور مقامی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں







Discussion about this post