وفاقی دارالحکومت کے علاقے ڈی-12 کے قریب ایران ایونیو پر نصب کیے گئے دو بڑے ہاتھوں کے ماڈلز کو شدید عوامی ردِعمل کے بعد ہٹا دیا گیا۔ یہ مجسمے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے بنائے گئے تھے، جن میں دو بڑے ہاتھوں میں گلوب تھامے دکھایا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کے بعد شہریوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ان ماڈلز کو لگانے کی اجازت کس نے دی؟

سی ڈی اے کا مؤقف
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ترجمان کے مطابق:
-
یہ ماڈلز سوسائٹی نے بغیر اجازت نصب کیے تھے۔
-
ان کا مقصد سی ڈی اے کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شہر کو خوبصورت بنانا تھا۔
-
یہ زیر تعمیر ماڈل تھے اور سوسائٹی نے خود ہی انہیں ہٹا دیا۔
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ سی ڈی اے نے کسی قسم کی منظوری یا ڈیزائن اپروول نہیں دی تھی، اور ادارے کا ان ماڈلز سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا۔
سوشل میڈیا کا ردعمل
جیسے ہی ان ہاتھوں والے ماڈلز کی تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں، شہریوں نے تنقید کی کہ یہ مجسمے:
-
غیر ضروری اور عجیب لگتے ہیں
-
عوامی مشورے اور اجازت کے بغیر کیوں لگائے گئے؟
-
کیا یہ اسلام آباد جیسے خوبصورت شہر کی شناخت کے مطابق ہیں؟
اس ردعمل کے بعد سی ڈی اے نے ماڈلز کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی، اور سوسائٹی نے خود ہی ماڈلز کو ہٹا لیا۔







Discussion about this post