ڈھاکا میں بین الاقوامی جرائم ٹریبونل (ICT) کی سماعت کے دوران ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب بنگلہ دیش کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللہ مامون نے گزشتہ سال حکومت مخالف مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا اعتراف کرلیا۔ چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے صحافیوں کو بتایا کہ مامون نے جولائی اور اگست 2024 میں ہونے والے واقعات سے متعلق عدالت سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے، اور عدالت نے ان کی سیکیورٹی کے لیے علیحدہ رہائش کی منظوری دے دی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، ان مظاہروں کو کچلنے کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے طلبا کی قیادت میں شیخ حسینہ حکومت کے خلاف شروع ہوئے تھے۔

ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کے وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال پر باضابطہ فرد جرم عائد کر دی ہے۔ ان پر قتل عام کی روک تھام میں ناکامی، سازش، اشتعال انگیزی، معاونت اور شریک جرم ہونے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ عدالت نے ان دونوں کے وکلا کی جانب سے الزامات ختم کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ یاد رہے کہ 77 سالہ حسینہ واجد گزشتہ سال مظاہروں کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ وہ اب تک واپس نہیں آئیں، اور ان کی غیر حاضری میں مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔ دوسری جانب وزیر داخلہ اسد الزمان کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ 2 جولائی کو ایک الگ مقدمے میں شیخ حسینہ کو توہینِ عدالت پر چھ ماہ قید کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ استغاثہ کے مطابق، مظاہروں کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات اور ہلاکتوں کی تمام تر ذمہ داری براہ راست شیخ حسینہ پر عائد ہوتی ہے۔







Discussion about this post