سندھ ہائی کورٹ نے فلم ساز، مصنف اور ہدایتکار جمشید محمود عرف جامی کی سزا کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے جامی کو 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد ان کی رہائی متوقع ہے۔ درخواست گزار کے وکیل حافظ محمد یحییٰ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد جمشید محمود کو آج ہی جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔ عدالت نے ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی دو سال قید اور جرمانے کی سزا بھی معطل کر دی ہے۔

جمشید جامی کے خلاف یہ مقدمہ میوزک اور فلم ڈائریکٹر سہیل جاوید کی جانب سے ڈائریکٹ کمپلین کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ جامی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سہیل جاوید کے خلاف توہین آمیز اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے چند روز قبل جمشید جامی کو دو سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ فیصلے میں لکھا گیا تھا کہ ملزم سوشل میڈیا پر شکایت کنندہ کے خلاف نامناسب مواد کی تردید کرنے یا خود کو اس سے الگ رکھنے میں ناکام رہا۔ جمشید محمود عرف جامی پاکستان میں متبادل سینما اور سماجی موضوعات پر مبنی فلم سازی کے حوالے سے ایک معروف نام ہیں، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی پر شوبز حلقوں میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔







Discussion about this post