الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے حالیہ الزامات اور سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ممبران کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ "چند مفاد پرست عناصر اور مخصوص گروہ کمیشن اور اس کی قیادت کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹے الزامات اور حقائق کے منافی پروپیگنڈے میں مصروف ہیں، حالانکہ الیکشن کمیشن تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق لیتا ہے اور کسی دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آتا۔”
حالیہ ملاقاتوں پر وضاحت
اعلامیے کے مطابق حالیہ دنوں میں چیف الیکشن کمشنر اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے درمیان ہونے والی ملاقات پر جو تبصرے کیے گئے وہ حقائق کے برعکس ہیں۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ:
-
سرکاری افسران اور آئینی عہدیدار وقتاً فوقتاً سرکاری امور کے لیے الیکشن کمیشن سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔
-
ماضی میں سابق صدر عارف علوی، سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ایسی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
-
پی ٹی آئی کے کئی رہنما بشمول شاہ محمود قریشی، اسد عمر، پرویز خٹک، محمود خان نے بھی درخواستوں پر چیف الیکشن کمشنر سے ملاقاتیں کیں۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف:
"کیا اُس وقت یہ سب درست تھا اور اب غلط ہے؟ کسی بھی الیکشن کمیشن کے افسر نے ذاتی حیثیت میں یا کسی ذاتی مقصد کے لیے ملاقات نہیں کی۔ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کا کمیشن سے رجوع کرنا قانوناً درست اور معمول کا عمل ہے۔”
اعلامیے میں صاحبزادہ محمد حامد رضا کی جانب سے لگایا گیا یہ الزام کہ انہیں سنی اتحاد کونسل کا امیدوار تسلیم نہیں کیا گیا، قطعی طور پر غلط قرار دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق:
-
اُنہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی-نظریاتی (PTI-N) کا ڈیکلریشن دیا۔
-
نہ تو سنی اتحاد کونسل اور نہ ہی پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو الائنس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جمع کروایا، نہ ہی مشترکہ انتخابی نشان کی درخواست دی۔
-
ایسے میں انہیں ضابطے کے مطابق آزاد امیدوار قرار دیا گیا اور مینار کا نشان الاٹ کیا گیا۔
کمیشن کے مطابق اگر صاحبزادہ محمد حامد رضا واقعی سنی اتحاد کونسل کے امیدوار تھے تو انہیں پارٹی کا ٹکٹ لگانا چاہیے تھا۔ مزید برآں، جب الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل سے خواتین امیدواروں کی نامزدگی سے متعلق معلومات طلب کیں تو حامد رضا نے تحریری طور پر اطلاع دی کہ کوئی امیدوار ان کی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ نہیں لے رہا۔ الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور نہ ہی بے بنیاد الزامات یا سیاسی دباؤ ادارے کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تمام فیصلے قانون اور آئین کے مطابق کیے جا رہے ہیں اور آئندہ بھی اسی شفافیت سے کیے جاتے رہیں گے۔








Discussion about this post