کرکٹ کی دنیا آج ایک عظیم کھلاڑی سے محروم ہو گئی۔ بھارت کے سابق لیفٹ آرم اسپنر دلیپ دوشی 77 برس کی عمر میں لندن میں دل کی بیماری کے باعث انتقال کر گئے۔ معروف اسپورٹس ویب سائٹ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق، وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے لندن میں مقیم تھے۔ دلیپ دوشی نے بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے 33 ٹیسٹ اور 15 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے، جن میں انہوں نے مجموعی طور پر 136 وکٹیں اپنے نام کیں۔ ان کا شمار ان چند بالرز میں ہوتا ہے جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں طویل اور شان دار کیریئر گزارا۔ انہوں نے 238 فرسٹ کلاس میچز میں 898 وکٹیں حاصل کیں، جس میں ان کا بولنگ ایوریج 26.58 رہا — ایک قابلِ قدر کارنامہ۔

دوشی نے بھارت کی ریاست سوراشٹرا اور بنگال کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ انگلینڈ میں ناٹنگھم شائر، وارکشائر اور ہرٹفورڈشائر جیسے کاؤنٹی کلبز کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔ ان کی گیند بازی کی مہارت نے انہیں نہ صرف ایشیا بلکہ یورپ میں بھی عزت و وقار عطا کیا۔ دلیپ دوشی کی زندگی کرکٹ کے شوق، محنت، اور اخلاقی اقدار کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کی خدمات، خواہ میدان کے اندر ہوں یا باہر، کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کا جانا نہ صرف بھارتی کرکٹ کے لیے نقصان ہے بلکہ عالمی کرکٹ برادری کے لیے ایک افسوس ناک لمحہ ہے۔








Discussion about this post