اسلام آباد سے جاری ہونے والے ایک اہم بیان میں دفتر خارجہ نے بھارتی میڈیا کے ان جھوٹے اور گمراہ کن دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے منسوب کر کے کہا گیا کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے درخواست دی تھی۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ تو جنگ کا آغاز کرنے والا ہے اور نہ ہی کسی فریق سے جنگ بندی کی بھیک مانگی گئی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے صرف خطے میں امن کے لیے رضامندی ظاہر کی، جو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اس کا اصولی مؤقف ہے۔ ترجمان کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے انٹرویوز اور سرکاری بیانات میں یہی بات دوہرائی کہ پاکستان نے بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا۔ "ہم نے اپنے دفاع کے حق کے تحت بھرپور کارروائی کی، اور بھارت کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔”

دفتر خارجہ نے تصدیق کی کہ دوست ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور امریکا، نے کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا۔ یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی اُس وقت شدت اختیار کر گئی جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے اس واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ اس واقعے کو جواز بنا کر بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کے مختلف شہروں پر فضائی حملے کیے۔ تاہم پاک فضائیہ نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا اور جوابی کارروائی میں بھارت کے چھ جنگی طیارے، جن میں رافیل بھی شامل تھے، مار گرائے۔ پاکستان نے 10 مئی کو "آپریشن بنیان مرصوص” کا آغاز کرتے ہوئے بھارتی فوجی ٹھکانوں اور ایئر بیسز کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس کے بعد بھارت نے بیک چینل ذرائع سے امریکا سے ثالثی کی اپیل کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر ممکن ہو سکی، جس سے خطے میں ممکنہ بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔







Discussion about this post