اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ اسرائیل نے تہران کے شہریوں کو شہر خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد لاکھوں لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ تہران کی سڑکوں پر غیر معمولی گہما گہمی ہے، لوگ اپنا ضروری سامان اٹھائے شہر سے نکلنے کی کوشش میں ہیں۔ اس وارننگ کے بعد اندازہ ہے کہ تین لاکھ تیس ہزار افراد براہ راست متاثر ہوں گے، جن میں کئی اہم ادارے جیسے ریاستی ٹی وی اور پولیس ہیڈکوارٹرز بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک چونکا دینے والا بیان جاری کیا کہ "ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، اور ہر کسی کو تہران سے نکل جانا چاہیے۔” انہوں نے یہ بات سوشل میڈیا پر پیر کی رات کہی، جس کے بعد حالات نے تیزی سے پلٹا کھایا۔ جی سیون اجلاس کے لیے کینیڈا میں موجود صدر ٹرمپ نے اجلاس ادھورا چھوڑ کر فوری امریکہ واپس جانے کا اعلان بھی کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے باعث فوری موجودگی ضروری ہو گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے ماضی میں بھی غزہ اور لبنان پر حملوں سے قبل اسی نوعیت کی وارننگز دی جا چکی ہیں۔ اس بار نشانہ ایران ہے، اور تہران جیسے مرکزی شہر کو خالی کرنے کا مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ ایک بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے بھی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ عالمی رہنماؤں کے ساتھ ڈنر کے بعد راتوں رات واپس جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "بہت کچھ مکمل ہو چکا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کی صورتحال فوری توجہ مانگتی ہے۔” دوسری طرف، چین نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری زمینی راستے سے اردن کی جانب روانہ ہوں، کیونکہ اسرائیل میں حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔ ادھر امریکہ، ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی ایلچی اس ہفتے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے تاکہ جنگ بندی اور جوہری معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔ تاہم صدر ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ "اب وقت کم رہ گیا ہے، ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ دیر ہو جائے گی۔” اس پوری صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک طرف یوکرین اور غزہ میں جاری تنازعات، دوسری طرف ایران اور اسرائیل کے درمیان نئی جنگ کا خطرہ، دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، اور ہر لمحہ کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔







Discussion about this post