نوجوان ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں گرفتار ملزم عمر حیات کو اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے شناخت پریڈ کی اجازت دیتے ہوئے ملزم کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ 17 برس کی معصوم ثنا، جو اپنے خوابوں کے ساتھ زندگی کے رنگین سفر پر گامزن تھی، 2 جون کی دوپہر اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں اپنے ہی گھر میں بے رحمی سے گولیوں کا نشانہ بنائی گئی۔ ان کے ساتھ والدہ اور دیگر اہلخانہ موجود تھے، لیکن قاتل نے کسی کو نہ بخشا ۔ واردات کے بعد ملزم عمر حیات موقع سے فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں اور سوشل میڈیا ڈیٹا کے ذریعے سراغ لگاتے ہوئے فیصل آباد سے گرفتار کر لیا۔ اس کے خلاف تھانہ سنبل میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قاتل ملزم عمرحیات کی شناخت پریڈ کی درخواست منظور، ڈیوٹی مجسٹریٹ احمدشہزاد نے تفتیشی افسر کی استدعا پر ملزم کو 14 روز کیلئے شناخت پریڈ پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا،#sanayousaf #SANA #SanaYousuf pic.twitter.com/i1mhhZkntO
— Muhammad Shoaib Siddiqui (@siddiqui090) June 4, 2025
آئی جی اسلام آباد علی ناصر نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ یہ قتل مسترد محبت کا المناک انجام تھا۔ ملزم بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن ثنا نے ہر بار صاف انکار کیا۔ انکار کا یہ حوصلہ اسے زندگی سے محروم کر گیا۔29 مئی کو ملزم ان سے ملنے پہنچا، مگر ناکام رہا۔ اور پھر2 جون کو… وہی اندھیرا، وہی خونی فیصلہ اور ایک زندگی ہمیشہ کے لیے خاموش۔ عدالتی کارروائی کے دوران جب ملزم کو چہرے پر کپڑا ڈال کر لایا گیا تو عدالت نے پراسیکیوٹرز کی غیر موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔ جج نے ریمارکس دیے:
"آج ہائی پروفائل کیس ہے تو سب پراسیکیوٹرز موجود ہیں، ورنہ اکثر غائب ہوتے ہیں!” عدالت نے سماعت میں وقفہ دیا، اور بعد ازاں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ کی منظوری دے دی۔







Discussion about this post