تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول بھٹو زرداری

by ویب ڈیسک
اکتوبر 12, 2024
آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول بھٹو زرداری
Share on FacebookShare on Twitter

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں بلاول بھٹو زرداری لکھتے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح کی 1931 میں پیش کردہ تجویز تقریباً پیپلزپارٹی کی پیش کردہ تجویز سے مماثلت رکھتی ہے۔ قائداعظم نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے وفاقی آئینی عدالت، ہائیکورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے لیے سپریم کورٹ اور ایک فوجداری اپیل کی عدالت کی تجاویز دیں۔ قائداعظم نے کہا کہ کوئی بھی سوال جو وفاقی آئین سے متعلق ہو یا آئین سے پیدا ہو، اسے وفاقی عدالت میں جانا چاہیے، قائداعظم نے ایک ہی عدالت کو وفاقی قوانین پر وسیع دائرہ اختیار دینے کی بھی مخالفت کی۔ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ قائداعظم نے کہا کہ میں یہ مؤقف رکھتا ہوں کسی بھی شہری کو اگر اس کے حق پر حملہ کیا جائے یا اسے چیلنج کیا جائے، ظاہر ہے کہ یہ آئین سے متعلق ہونا چاہیے۔ قائداعظم کے مطابق اس عدالتی نظام کا ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ الگ وفاقی عدالت کی تقرری کے دوران ایسے افراد کا انتخاب کریں جو آئینی معاملات میں خاص مہارت رکھتے ہوں، تو آپ ایسا نظام قائم کریں گے جو سب سے زیادہ قابل ترجیح ہوگا۔قائد اعظم نے گول میز کانفرنس میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ماہرین کا دور ہے اور ہندوستان میں ہم ابھی اس سطح پر نہیں پہنچے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے گول میز کانفرنس میں آئینی عدالت کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا صبح کے وقت آپ ہندو قانون کے ایک پیچیدہ سوال پر دلائل دے رہے ہوتے ہیں، اور دوپہر میں آپ روشنی اور ہوا اور آسانی کے معاملات پر بحث کررہے ہوتے ہیں، اگلے دن آپ ایک تجارتی مقدمے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، اور تیسرے دن آپ شاید ایک طلاق کے مقدمے سے نمٹ رہے ہوتے ہیں، اور چوتھے دن آپ ایک ایڈمرلٹی مقدمے کی سماعت کررہے ہوتے ہیں۔ یہ قائداعظم کی جانب سے عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ کو کم کرنے کا حل تھا جو ان کو دیے گئے وسیع دائرہ اختیار کی وجہ سے تھا، قائداعظم کی تجاویز بعد میں جرمنی کے 1949 کے بنیادی قانون سے بھی مماثلت رکھتی تھیں جس نے وفاقی آئینی عدالت قائم کی۔

Previous Post

روسی عدالت کا برطانوی صحافی کی گرفتاری کا حکم

Next Post

یوکرینی خاتون صحافی روسی حراست میں چل بسیں

Next Post
یوکرینی خاتون صحافی روسی حراست میں چل بسیں

یوکرینی خاتون صحافی روسی حراست میں چل بسیں

Discussion about this post

تار نامہ

اگست میں بنگلہ دیش کی 2 کرکٹ  ٹیمیں آئیں گی

پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز، بنگلہ دیش اسکواڈ کا اعلان

iran school 2

ایران میں اسکول پر حملہ امریکی فوج نے کیا، تحقیقات میں انکشاف

امریکا : اب مسافروں کو جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی

دو لاکھ سے زائد امریکی شہری مشرق وسطیٰ میں پھنس گئے

trump 2

سب سے پہلے ایران کو ختم کرنا چاہتے ہیں

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist