سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج 9 مئی کے واقعات سے متعلق درج 8 مقدمات میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فریقین کو حکم نامے کے لیے چیمبر میں طلب کیا۔ چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ کی تشکیل نو کے بعد جسٹس حسن اظہر رضوی کو شامل کیا گیا۔ سماعت کے دوران استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 1996ء سے لے کر 2024ء تک سپریم کورٹ کے فیصلوں میں یہی اصول وضع کیا گیا ہے کہ ضمانت میں دی جانے والی عدالتی آبزرویشنز عبوری نوعیت کی حامل ہوتی ہیں اور ان کا ٹرائل پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کسی بھی فریق کو مقدمے کے مرکزی حقائق پر بات نہیں کرنے دے گی، کیونکہ مقدمے کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جب اسی نوعیت کے الزامات میں پہلے بھی دیگر ملزمان کو ضمانت دی گئی ہے تو تسلسل کا اصول اس مقدمے میں کیوں لاگو نہیں ہوگا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضمانت کی تمام آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہیں اور مقدمے کی میرٹس کا تعین ٹرائل کورٹ خود کرے گی۔







Discussion about this post