اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کو سابق وزیرِ اعظم اور تحریک انصاف بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ 24 مارچ کے حکم نامے کے تحت ہفتہ وار دو ملاقاتوں کا شیڈول برقرار رکھا جائے۔ ہائی کورٹ کے بڑے بینچ جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم خان نے یہ فیصلہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے عمران خان کی جیل ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف دائر 11 درخواستوں کی سماعت کے دوران سنایا۔ سماعت میں عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کو حکم دیا کہ عمران خان کی ملاقاتیں جاری ایس او پیز کے مطابق ممکن بنائی جائیں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ملاقاتوں کا بندوبست پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق کیا جائے۔ سلمان اکرم راجا نے عدالت میں اپنے دلائل بھی پیش کیے۔ درخواست گزاروں میں خیبر پختونخوا کے نئے منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی درخواست بھی شامل تھی، جو سماعت کے لیے خود عدالت میں موجود رہے۔ سماعت کے بعد ان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ ۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی کوشش کے لیے اڈیالہ روانہ ہو گئے ہیں۔
وزیراعلی @SohailAfridiISF اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کے بعد اڈیالہ جیل روانہ ہوگئے۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت دی ہے کہ @ImranKhanPTI سے فیملی، وکلا اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں بغیر رکاوٹ ہر منگل اور جمعرات کو ایس او پیز کے مطابق کرائی جائیں۔ pic.twitter.com/UgCobxjhFk
— Chief Minister KP (@KPChiefMinister) October 23, 2025
عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے پاکستان پریزن رولز 1978 پر عملدرآمد کی استدعا پر بھی سماعت کی، جس میں پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل امجد پرویز نے دلائل دیے۔ اس کے علاوہ ایک اپیل پر بھی سماعت ہوئی جس میں جیل ملاقاتوں کے دوران سیاسی گفتگو پر پابندی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر راولپنڈی پولیس عدالت میں پیش ہوئی تاکہ علیمہ خانم کے خلاف احتجاجی کیس میں جاری ناقابلِ ضمانت وارنٹ پر دستخط کروائے جا سکیں۔یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو اڈیالہ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد آج عدالت نے اس معاملے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو طلب کیا۔







Discussion about this post