پاکستان میں نوجوانوں کی سیاست میں شمولیت ایک دلچسپ مگر متضاد عمل بن چکا ہے۔ ایک طرف نوجوان سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے سب سے متحرک کارکن ہوتے ہیں، ریلیوں میں سب سے زیادہ نعرے لگاتے ہیں، اور احتجاجی مظاہروں کا فرنٹ لائن ہوتے ہیں۔ دوسری طرف جب پالیسی سازی، قانون سازی یا پارلیمانی کردار کی بات آتی ہے تو وہ کہیں نظر نہیں آتے۔
پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً 64 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے صرف 6 فیصد ارکان ایسے تھے جن کی عمر 30 سال سے کم تھی۔ یہ فرق صرف تعداد تک محدود نہیں، بلکہ اصل مسئلہ ان نوجوانوں کے لیے "سیاسی اختیار” تک رسائی نہ ہونا ہے۔
نوجوانوں کو پارٹی ٹکٹ دینے کے بجائے صرف "الیکشن کیمپین” چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو جاتی ہے جب نوجوانوں کو سیاست میں صرف "شوبازی” یا "سیلفی پا لیٹکس” تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ آج یونیورسٹیوں اور کالجوں میں نوجوان اکثر سیاسی جماعتوں کے ساتھ صرف اس لیے وابستہ ہوتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی ظاہر کر سکیں، نہ کہ حقیقی سیاسی عمل کا حصہ بننے کے لیے۔
ایک اور اہم رکاوٹ مالی وسائل کی کمی ہے۔ پاکستان میں انتخابات میں حصہ لینا صرف سیاسی وژن یا خدمت کا جذبہ نہیں بلکہ ایک "سرمایہ کاری” بن چکا ہے۔ پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے لاکھوں روپے کی رشوت یا چندہ درکار ہوتا ہے۔ ایک قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑنے کے لیے امیدوار کو اندازاً 1 سے 3 کروڑ روپے تک خرچ کرنا پڑتا ہے، جس میں جلسوں کا خرچ، ووٹرز کے لیے سہولیات، اشتہارات، سوشل میڈیا ٹیم، اور حتیٰ کہ ووٹ خریدنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ یہ صورتحال ایک عام پڑھے لکھے اور اہل نوجوان کے لیے سیاسی مقابلے سے باہر نکلنے کی سب سے بڑی وجہ بن گئی ہے۔
پاکستان میں اکثر وہ نوجوان سیاست میں آتے ہیں جو پہلے سے سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے لیے فنڈنگ، میڈیا کوریج، اور پارٹی ٹکٹ محض رسمی مراحل بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسمبلیوں میں جو چند نوجوان نظر آتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی ایم این اے، سینیٹر یا وزیر کے بیٹے یا بیٹی ہوتے ہیں۔
تاہم اس منظرنامے میں ایک امید کی کرن پاکستان پیپلز پارٹی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نوجوانوں کے لیے وژن کی صورت میں بھی سامنے آتی ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنی قیادت کے آغاز سے ہی نوجوانوں کو مرکزی مقام دینے کی بات کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے یوتھ ونگ کو فعال کرنے، طلباء یونین کی بحالی کے مطالبے، اور نوجوان قیادت کو سامنے لانے کی مسلسل کوششیں ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ رہی ہیں۔
سندھ حکومت نے گزشتہ برسوں میں متعدد اقدامات کیے جو نوجوانوں کی ترقی اور سیاسی شمولیت کے حوالے سے مثبت مثالیں ہیں۔ "سندھ اسٹوڈنٹ اسکالرشپ پروگرام”، "یوتھ ایمپاورمنٹ اسکیمز”، اور "انٹرن شپ پروگرامز” کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو تعلیم، تربیت، اور روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔ بلاول بھٹو خود بھی قومی و بین الاقوامی سطح پر نوجوان قیادت کی علامت کے طور پر ابھرے ہیں، جنہوں نے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے نوجوانوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے نوجوان قیادت کو نہ صرف موقع دیا بلکہ انہیں اعلیٰ حکومتی عہدے بھی سونپے۔ نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن، فرانس کے صدر ایمانویل میکرون اور کینیڈا کے جسٹن ٹروڈو ایسی مثالیں ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری خود بھی اسی صف میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ پاکستانی نظام نوجوانوں کو سیاست میں نمائندگی دینے کے لیے مزید کھلے دروازے پیدا کرے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں نوجوانوں کی شمولیت کو نمائشی نہیں بلکہ عملی بنیادوں پر فروغ دیں۔ صرف یوتھ ونگز یا سوشل میڈیا ٹیموں سے آگے بڑھ کر نوجوانوں کو قانون سازی، پارٹی ڈھانچے، اور فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کو بھی نوجوانوں کی مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لیے انتخابی نظام کو زیادہ شفاف اور قابل رسائی بنانا چاہیے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا سیاسی مستقبل جدید سوچ، عالمی سطح پر متحرک اور مسائل کو سمجھنے والی قیادت کے ہاتھوں میں ہو، تو ہمیں نوجوانوں کو سیاست میں صرف "ہجوم” کے کردار سے نکال کر "حکومت سازی” کے مقام پر پہنچانا ہوگا۔ ورنہ سیاست پر وہی چہرے چھائے رہیں گے جو دہائیوں سے تجربے کے نام پر نئی سوچ کو دباتے آ رہے ہیں۔







Discussion about this post