بین الاقوامی حفاظتی سروے اور سیفٹی انڈیکس 2025 کے تازہ اعداد و شمار نے دنیا بھر میں عوامی تحفظ، امن و امان اور جرائم کی صورتحال کی ایک واضح تصویر پیش کر دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جہاں کچھ ممالک اعلیٰ سیکیورٹی اور مضبوط نظامِ قانون کے باعث دنیا کے محفوظ ترین خطوں میں شمار ہو رہے ہیں، وہیں کئی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں عوامی تحفظ سنگین خطرات کی زد میں ہے۔

محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں متحدہ عرب امارات نمایاں طور پر سرفہرست ہے، جس نے تقریباً 85.2 کے حفاظتی اسکور کے ساتھ دنیا میں اپنی مثال قائم کی ہے۔ اس کے بعد یورپ کا چھوٹا مگر پُرامن ملک اَنڈورا 84.7 کے اسکور کے ساتھ شامل ہے۔ قطر نے 84.2 کے اسکور کے ساتھ مضبوط سیکیورٹی اور کم جرائم کی بدولت اپنی جگہ برقرار رکھی، جبکہ تائیوان 82.9 اور عمان 81.7 کے اسکور کے ساتھ دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شمار ہوئے۔ ان کے علاوہ اسلے آف مین، ہانگ کانگ، ارمینیا، سنگاپور اور جاپان بھی عالمی سطح پر محفوظ ممالک کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان ممالک کی پہچان کم جرائم، مضبوط قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیاسی استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر پالیسیوں سے جڑی ہوئی ہے۔

دوسری جانب سیفٹی انڈیکس نے 2025 میں بعض ممالک کی تشویشناک صورتحال بھی بے نقاب کی ہے۔ ہیٹی کو دنیا کا سب سے غیر محفوظ ملک قرار دیا گیا، جہاں حفاظتی اسکور تقریباً 19 رہا۔ پاپوا نیو گنی 19.7 اور وینیزویلا 19.5 کے اسکور کے ساتھ فہرست کے نچلے حصے میں موجود ہیں، جہاں مسلسل تشدد اور جرائم نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ افغانستان 24.9 کے اسکور کے ساتھ سیکیورٹی چیلنجز کے باعث خطرناک ممالک میں شامل ہے، جبکہ جنوبی افریقہ 25.3 کے اسکور کے ساتھ جرائم اور سماجی بے چینی کی وجہ سے غیر محفوظ ممالک میں شمار ہوا۔ ان ممالک میں اندرونی تنازعات، معاشی مسائل، سیاسی عدم استحکام اور بلند جرائم کی شرح نے مجموعی تحفظ کو کمزور کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو سیکیورٹی انڈیکس میں درمیانی درجہ دیا گیا ہے، جو جنوبی ایشیا میں معتدل سطح کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت بھی اسی گروپ میں شامل ہے، جہاں شہری تحفظ کے متعدد عوامل مل کر مجموعی درجہ بندی کو متاثر کر رہے ہیں۔ حیران کن طور پر برطانیہ اور امریکا جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس فہرست میں درمیانی یا نسبتاً کم حفاظتی اسکور حاصل کر سکے، جس کی وجہ عمومی جرائم اور شہری سیکیورٹی کے بدلتے ہوئے مسائل بتائے گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ممالک کے درمیان حفاظتی فرق کئی عوامل کا نتیجہ ہوتا ہے، جن میں پولیس کی مؤثر موجودگی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت، سیاسی استحکام، سماجی ہم آہنگی، جرائم کی شرح، ہتھیاروں کی دستیابی اور معاشی مواقع شامل ہیں۔ سیفٹی انڈیکس 2025 نہ صرف سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ حکومتوں اور پالیسی سازوں کے لیے بھی عوامی تحفظ کو بہتر بنانے کا ایک آئینہ ثابت ہو رہا ہے۔







Discussion about this post