عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھارت میں نیپا وائرس کے حالیہ کیسز کے حوالے سے خبردار کیا ہے، لیکن کہا ہے کہ اس وقت وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے اور فوری طور پر کسی سفر یا تجارتی پابندی کی ضرورت نہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق بھارت میں وائرس کے صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اور اس وقت انسان سے انسان میں اس کے تیز پھیلاؤ کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ عالمی ادارے نے مزید بتایا کہ بھارت میں وبائی امراض سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور بھارتی صحت حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ تاہم، یہ خدشہ مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نیپا وائرس چمگادڑوں کی آبادی میں پایا جاتا ہے، جو بھارت اور پڑوسی بنگلہ دیش میں موجود ہے۔ نیپا وائرس عام طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں اور بعض جانوروں جیسے سور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ بخار اور دماغی سوزش پیدا کر سکتا ہے، اور اس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔ اس وقت اس بیماری کا کوئی باقاعدہ علاج موجود نہیں، اگرچہ ویکسینز پر تحقیق جاری ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ نیپا وائرس انسان سے انسان میں آسانی سے منتقل نہیں ہوتا اور عموماً طویل اور قریبی رابطے کی صورت میں پھیلتا ہے، اس لیے عام شہریوں کے لیے مجموعی خطرہ کم ہے۔ حالیہ کیسز بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں رپورٹ ہوئے، جہاں دسمبر کے آخر میں دو ہیلتھ ورکرز متاثر ہوئے تھے اور اب بھی زیر علاج ہیں۔ بھارت میں نیپا وائرس کے چھوٹے پیمانے پر پھیلاؤ کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آ چکے ہیں، خاص طور پر ریاست کیرالہ میں، جہاں 2018 سے اب تک متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔







Discussion about this post