حصار فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ساتویں کراچی انٹرنیشنل واٹر کانفرنس (KIWC) کا آغاز آج کراچی اسکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ میں ہوا۔ دو روزہ کانفرنس کا موضوع "پانی، لوگ، صحت، سیلاب سے نمٹنا” مقرر کیا گیا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے پانی، صحتِ عامہ، موسمیاتی مطابقت اور پالیسی سازی سے وابستہ ماہرین، محققین، طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندے اور نجی شعبے کے رہنما شریک ہوئے۔ افتتاحی اجلاس میں پانی، خوراک اور معاش کے شعبوں میں حصار فاؤنڈیشن کے دو دہائیوں پر محیط کردار اور ارتقاء پر روشنی ڈالی گئی۔اپنے کلیدی خطاب میں حصار فاؤنڈیشن کی بانی و چیئرپرسن سیمی کمال نے کہا:
"یہ کانفرنس ایک ایسے نازک موڑ پر منعقد کی جارہی ہے جب فطرت پر مبنی حلوں کی طرف واپسی پر سنجیدہ غور ناگزیر ہو چکا ہے۔”
انہوں نے اس موقع پر "تھنک گلوبل، ایکٹ لوکل” سے "تھنک لوکل، ایکٹ گلوبل” کے تصور کی جانب منتقلی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

تحقیق اور استعداد کار میں اضافہ ، پنجوانی فاؤنڈیشن کا کردار
پنجوانی چیریٹیبل فاؤنڈیشن اینڈ ٹرسٹس کی بانی و منیجنگ ٹرسٹی نادرہ پنجوانی نے اپنے خطاب میں پنجوانی حصار واٹر انسٹی ٹیوٹ کو پاکستان کی سب سے بڑی واٹر ریسرچ سہولت میں تبدیل کرنے کے سفر پر روشنی ڈالی۔جبکہ حصار فاؤنڈیشن کے سابق چیئرمین اشرف کپاڈیا نے فاؤنڈیشن کے بیس سالہ ارتقائی سفر اور قومی خدمات پر بات کی۔
سیلاب سے متعلق شہریوں کا کمیشن ،نوجوانوں کی آواز
دوسرا عمومی اجلاس "سیلاب سے متعلق شہریوں کا کمیشن: پانی، لوگوں اور صحت پر اثرات” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کی صدارت سینیٹر مشاہد حسین سید نے کی۔یہ سیشن خاص طور پر نوجوانوں کی شرکت اور ان کے خیالات کو نمایاں کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، تاکہ پانی، لوگ اور صحت کے درمیان تعلق کو معاشرتی تناظر میں اجاگر کیا جا سکے۔اجلاس کا آغاز ایک متاثر کن ویڈیو سے ہوا جس میں سوال اٹھایا گیا:
"آپ ہمارے لیے کیسی دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟”
یہ سوال حاضرین کے دلوں میں گہرا اثر چھوڑ گیا۔
اہم مقررین کے خیالات اور تجاویز
سیشن میں احسان لغاری، رافع عالم، یاسمین قاضی، نعمان احمد، عافیہ سلام، حماداین خان اور سیدہ ملائکہ زہرہ سمیت متعدد ماہرین نے شرکت کی۔گفتگو کے اختتام پر سینیٹر جاوید جبار، سینیٹر مشاہد حسین اور سیمی کمال نے مکالمے کو سمیٹا۔سینیٹر جاوید جبار نے مقامی حکومتوں کے فعال کردار کی ضرورت پر زور دیا،جبکہ سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستان کے آفات سے نمٹنے کے روایتی طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
"پاکستان ہر قدرتی آفت کے بعد تین سی کے فارمولے پر عمل کرتا ہے ،Condolence (تعزیت)، Compensation (معاوضہ) اور Commitment (وعدے) لیکن پائیدار حل تلاش نہیں کرتا۔”
موضوعاتی نشستیں ، پانی برائے صحت، انصاف اور عوام
کانفرنس کے دوران "پانی برائے عوام”، "پانی برائے صحت” اور "پانی میں انصاف” کے موضوعات پر متعدد نشستیں منعقد ہوئیں۔
ان نشستوں میں صحت اور غذائی تحفظ، نجی شعبے کا کردار، پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، سندھ طاس معاہدے اور پانی کی تقسیم جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ان مباحثوں میں ڈاکٹر پرویز امیر، ڈاکٹر فضیلہ نبیل، ڈاکٹر محمد اشرف، ڈاکٹر جے داس، علی توقیر شیخ، ڈاکٹر سونیا مرشد، ناصر پنہور، رشیدہ دوحاد، فیض کاکڑ سمیت کئی نامور ماہرین شریک ہوئے۔

پانی کے ذریعے زندگی، صحت اور انصاف کی نئی راہیں
حصار فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ ثنا کوثر نے 2013 سے اب تک کے کراچی انٹرنیشنل واٹر کانفرنس کے سفر پر روشنی ڈالی اورسیمی کمال نے اس سال کے ایجنڈے، ساخت اور سیشنز کے تسلسل کی تفصیلی وضاحت پیش کی۔اختتامی سیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ
"پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں، بلکہ انسانی زندگی، صحت اور انصاف کے تانے بانے میں جڑا ہوا ایک بنیادی حق ہے۔”








Discussion about this post