تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

برطانوی جامعات نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبہ کے داخلے معطل، محدود کر دیے

by ویب ڈیسک
دسمبر 5, 2025
پی سی بی کا شاندار اقدام: نوجوان کرکٹرز کے تعلیمی اخراجات بھی بورڈ برداشت کرے گا
Share on FacebookShare on Twitter

برطانیہ کی متعدد یونیورسٹیوں نے ہوم آفس کی جانب سے امیگریشن قوانین میں مزید سختی اور ویزوں کے غلط استعمال سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش سے طلبہ کے داخلوں کو معطل یا محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام نے ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔  برطانوی روزنامہ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کم از کم 9 معروف جامعات نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو طلبہ ویزا کے لیے ’ہائی رسک‘ کیٹیگری میں شامل کر کے اپنی داخلہ پالیسیوں کو مزید سخت بنا دیا ہے۔ یہ اقدام اپنی اسپانسرشپ کی منظوری برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی طلبہ کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں واضح اضافہ ہوا ہے، جس پر برطانوی وزرا نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیمی ویزے کو مستقل رہائش کا ’’پچھلا دروازہ‘‘ نہیں بننے دیا جائے گا۔ ان اقدامات کی فہرست میں شامل یونیورسٹی آف چیسٹر نے ’ویزوں کی غیر متوقع طور پر بڑھتی ہوئی مستردی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے 2026 کے خزاں سیمسٹر تک پاکستان سے داخلے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن نے پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں سے انڈرگریجویٹ درخواستیں لینا بند کر دی ہیں، جبکہ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن نے بھی پاکستان سے بھرتیاں مکمل طور پر روک دی ہیں۔

دیگر ادارے جنہوں نے ایسی ہی ’رسک مینجمنٹ‘ پالیسی اختیار کی ہے، ان میں سنڈر لینڈ، کوونٹری، ہرٹفورڈ شائر، آکسفورڈ بروکس، گلاسگو کیلیڈونین اور نجی بی پی پی یونیورسٹی شامل ہیں، جہاں دونوں ممالک سے یا تو داخلے روک دیے گئے ہیں یا نمایاں طور پر کم کر دیے گئے ہیں۔ یہ تمام فیصلے اس نئی ریگولیٹری تبدیلی کے بعد سامنے آئے ہیں جو ستمبر میں نافذ ہوئی، جس کے تحت بین الاقوامی طلبہ کو اسپانسر کرنے والے اداروں کے لیے ویزا انکار کی حد 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبہ کی ویزا درخواستوں کی انکار کی شرح بالترتیب 18 اور 22 فیصد ہے، جو مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں ممالک ہوم آفس کی فہرست میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 تک کے ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 23 ہزار 36 ویزا درخواستیں مسترد ہوئیں، جن میں سے تقریباً نصف کا تعلق صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کے شہریوں سے تھا۔ مزید برآں، ان دونوں ممالک سے برطانیہ میں پناہ کی درخواستوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں متعدد افراد پہلے تعلیم یا ملازمت کے ویزے پر برطانیہ داخل ہوئے تھے۔

Previous Post

امریکا کا سفری پابندیوں کی فہرست 19 سے بڑھا کر 30 ممالک تک کرنے کا فیصلہ

Next Post

جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والے مسافروں کیخلاف شکنجہ سخت کرنے کا فیصلہ

Next Post
نئی شرائط سے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام ہو گی

جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والے مسافروں کیخلاف شکنجہ سخت کرنے کا فیصلہ

Discussion about this post

تار نامہ

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

drone

پنجاب میں ’اینٹی ڈرون یونٹ‘ قائم کرنے کا فیصلہ

ricky martin

معروف گلوکار رکی مارٹن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں پرفارم کریں گے

iran 4

امریکی ٹی وی کی ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

اگست میں بنگلہ دیش کی 2 کرکٹ  ٹیمیں آئیں گی

پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز، بنگلہ دیش اسکواڈ کا اعلان

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist