امریکہ نے ویزا پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایسی نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت ذیابیطس، موٹاپا، دل یا ذہنی امراض جیسے مزمن مسائل کے شکار افراد کو اب امریکی ویزا یا گرین کارڈ دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہدایات ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئیں اور انہیں دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق، ویزا افسران اب درخواست گزار کے جسمانی و ذہنی امراض کو فیصلہ سازی کا اہم جزو بنا سکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو ایسی بیماری لاحق ہے جس کے علاج پر زیادہ خرچ آتا ہے یا جس کی وجہ سے وہ مستقبل میں حکومتی مالی مدد کا محتاج ہو سکتا ہے، تو اس بنیاد پر بھی ویزا مسترد کیا جا سکتا ہے۔ افسران کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا درخواست گزار اپنے علاج کے اخراجات خود برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ نئی گائیڈ لائنز میں یہ پہلو بھی شامل ہے کہ اگر درخواست گزار کے اہلِ خانہ میں کوئی ایسا فرد موجود ہے جو دائمی بیماری یا معذوری کا شکار ہے اور اس سے درخواست گزار کی مالی خودکفالت متاثر ہو سکتی ہے، تو اسے بھی فیصلے میں شامل کیا جائے۔ یہ پالیسی ماضی کی طویل امریکی روایت سے نمایاں انحراف ہے، کیونکہ پہلے صرف متعدی بیماریوں، ویکسینیشن یا ذہنی صحت کے مخصوص پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا تھا۔

اب غیر متعدی مگر طویل مدتی امراض جیسے ذیابیطس اور دل کے مسائل کو بھی ’’ممکنہ مالی بوجھ‘‘ کے زمرے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے ویزا افسران کو زیادہ صوابدیدی اختیار مل گیا ہے، جس پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اختیارات ذاتی یا ثقافتی تعصب کی بنیاد پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ امیگریشن اور صحت عامہ کے ماہرین نے نئی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کیتھولک لیگل امیگریشن نیٹ ورک کے سینئر اٹارنی چارلس وہیلر کے مطابق، ’’یہ اقدام سائنسی بنیادوں کے بجائے اندازوں اور تعصبات پر مبنی فیصلوں کو فروغ دے گا۔‘‘ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر صوفیہ جینویس نے اس پالیسی کو ’’تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات دنیا بھر کے لاکھوں افراد پر پڑ سکتے ہیں جو عام مگر دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق، ’’یہ صرف امیگریشن نہیں بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ بھی ہے۔‘‘ امریکی ویزا کے لیے طبی معائنہ بدستور لازمی رہے گا، جس میں متعدی امراض، ذہنی صحت، منشیات کے استعمال اور ویکسینیشن کی جانچ شامل ہے۔ البتہ اب اس میں ایک نیا عنصر شامل کر دیا گیا ہے . درخواست گزار کی طویل المدتی صحت اور اس کے ممکنہ مالی بوجھ کا جائزہ، جو مستقبل میں ویزا پالیسی کے کئی فیصلوں کا رخ بدل سکتا ہے۔







Discussion about this post