تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

عثمان خواجہ کا آسٹریلوی ریڈیو اسٹیشن کو انٹرویو دینے سے انکار

by ویب ڈیسک
جون 26, 2025
عثمان خواجہ کا آسٹریلوی ریڈیو اسٹیشن کو انٹرویو دینے سے انکار
Share on FacebookShare on Twitter

آسٹریلیا کے اوپننگ بلے باز عثمان خواجہ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کے بعد آسٹریلوی اسپورٹس ریڈیو اسٹیشن SEN کو انٹرویو دینے سے انکار کر دیا۔ یہ انکار محض میڈیا روٹین کا حصہ نہیں بلکہ ایک پرعزم اور اصولی مؤقف کا مظہر تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چار ماہ قبل اسی ریڈیو اسٹیشن نے معروف کرکٹ تجزیہ کار پیٹر لیلور کو غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر برطرف کر دیا تھا۔ خواجہ، جو خود فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں، نے واضح پیغام دیا کہ وہ ایسے ادارے کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے جو حق گوئی پر قدغن لگائے۔

 پس منظر:

اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری کے خلاف عثمان خواجہ نے کئی بار سوشل میڈیا پر مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے ایک ٹیسٹ میچ کے دوران اپنے جوتوں اور گئیر پر "تمام انسان برابر ہیں” اور "امن کے لیے دعا کریں” جیسے غیر متعین اور غیر سیاسی پیغامات درج کرنے کی کوشش کی، لیکن ICC نے اسے "سیاسی پیغام” قرار دے کر مسترد کر دیا۔

اسی دوران جب پیٹر لیلور نے فلسطینیوں کے حق میں پوسٹس کیں، تو SEN کے سربراہ کریگ ہچیسن نے انہیں برطرف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی سرگرمیوں سے "یہودی آسٹریلوی شہریوں کو تکلیف پہنچی ہے”۔ جواب میں لیلور نے کہا:

"میرے دوست خوفزدہ ہیں، ان کی آواز میں درد ہے۔ مگر غزہ میں جو ہو رہا ہے وہ بھی کچھ کم نہیں۔”

عثمان خواجہ نے اس وقت بھی SEN کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا:

"غزہ کے مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا یہود مخالف نہیں۔ یہ اسرائیلی حکومت کے ظلم، انسانی حقوق، اور انصاف کی بات ہے۔”

 حالیہ واقعہ:

ویسٹ انڈیز کے خلاف 47 رنز کی اہم اننگز کھیلنے کے بعد خواجہ کو انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ وہ جیسے ہی مائیکروفون پر SEN کا لوگو دیکھتے ہیں، ہاتھ کے اشارے سے معذرت کرتے ہیں اور خاموشی سے واپس لوٹ جاتے ہیں۔ جبکہ ٹیم مینجمنٹ کی طرف سے روایتی طور پر دن کے بہترین کھلاڑی کو میڈیا سے گفتگو کے لیے بھیجا جاتا ہے، عثمان خواجہ نے اخلاقی بنیادوں پر انکار کر کے اپنے اصولوں کو میدان سے باہر بھی برقرار رکھا۔ عثمان خواجہ کا یہ قدم آسٹریلوی کرکٹ میں ایک مثالی طرزِ عمل کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جہاں کھیل اور انسانیت کے درمیان پل باندھنے کی کوشش کی گئی، نہ کہ فاصلے پیدا کیے گئے۔

Previous Post

پاکستان اگلے ماہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے گا

Next Post

ایرانی سفیر کا اسرائیلی جارحیت کے خلاف حمایت پر پاکستان سے اظہارِ تشکر

Next Post
ایرانی سفیر کا  اسرائیلی جارحیت کے خلاف حمایت پر پاکستان سے اظہارِ تشکر

ایرانی سفیر کا اسرائیلی جارحیت کے خلاف حمایت پر پاکستان سے اظہارِ تشکر

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist