امریکا کی جانب سے 55 ایرانی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی تصدیق سامنے آ چکی ہے، اور ایران نے بھی ان اطلاعات کی توثیق کر دی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی حراست میں لیے گئے یہ تمام شہری آئندہ چند روز کے اندر وطن واپس پہنچ جائیں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے باعث ایرانی شہریوں کے خلاف یہ دوسری بڑی کارروائی ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل ستمبر کے مہینے میں امریکا نے تقریباً 400 ایرانی شہریوں کی نشاندہی کی تھی، جنہیں بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جبکہ 120 افراد پہلے ہی دوحہ کے راستے تہران پہنچ چکے ہیں۔

ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کے طرزِ عمل پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پالیسیاں نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ تعصب پر مبنی بھی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی قرعہ اندازی میں شرکت کے لیے ایرانی فٹبال ٹیم کے وفد کو بھی امریکی ویزا جاری نہیں کیا گیا، جو عالمی کھیلوں کی روح اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ایران کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات انسانیت، کھیل اور سفارت کاری کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں، اور یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بن چکی ہے۔







Discussion about this post