انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے امریکا کرکٹ کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی ہے، جس کی وجہ اس کی جانب سے آئی سی سی ممبر کی ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزیاں قرار دی گئی ہیں۔کرکٹ کی معروف ویب سائٹ ‘کرک بز’ کے مطابق، امریکا کرکٹ نے آئی سی سی سے کیے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں پر عمل نہ کیا، جس کے بعد یہ سخت اقدام اٹھایا گیا۔ آئی سی سی بورڈ کے اجلاس میں ایک سالہ جائزے اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ امریکا کرکٹ کی ناکامیوں میں ایک مؤثر گورننس ڈھانچہ قائم نہ کرنا، اولمپک اور پیرالمپک کمیٹی سے نیشنل گورننگ باڈی کے طور پر منظوری نہ لینا، اور کھیل کی شہرت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات شامل ہیں۔

تاہم، اہم بات یہ ہے کہ امریکا کی قومی ٹیمیں آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کے لیے اہل رہیں گی، جس میں 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کی تیاری بھی شامل ہے۔ اس دوران، آئی سی سی اور اس کے مقرر کردہ نمائندے امریکا کی ٹیموں کے انتظامات سنبھالیں گے اور ہائی پرفارمنس پروگرامز اور کھلاڑیوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کرکٹ امریکا کے معاملات کی نگرانی نارملائزیشن کمیٹی کرے گی، جسے آئی سی سی انتظامیہ کی معاونت حاصل ہوگی۔ اس کمیٹی کا کام امریکا کرکٹ کی رکنیت بحال کرنے کے لیے ضروری اصلاحات متعارف کرانا ہوگا، جن میں گورننس، انتظامی اور ڈھانچے کی تبدیلیاں شامل ہیں۔ آئی سی سی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا:
"یہ معطلی افسوسناک ہے، لیکن کھیل کے طویل المدتی مفاد کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدام ہے۔ کھلاڑیوں کے مفادات اور کرکٹ کی ترقی کو متاثر نہ ہونے دینا ہماری اولین ترجیح ہے۔”

واضح رہے کہ سال 2024 کے اجلاس میں امریکا کرکٹ کو معاملات درست کرنے کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا، مگر متوقع اصلاحات عملی جامہ نہ پہن سکیں۔







Discussion about this post