امریکا نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کردیا ہے، جس کے بعد مجموعی شرح اب 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ آج سے مؤثر ہوگیا ہے۔ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے نوٹس کے مطابق، شپنگ کمپنیوں کو تین ہفتے کی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس کے تحت وہ بھارتی سامان جو 27 اگست سے پہلے جہاز پر لادا گیا اور امریکا کے لیے روانہ تھا، اسے 17 ستمبر تک پرانی ٹیرف شرح پر درآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔ امریکی اقدام کو براہِ راست روس-یوکرین جنگ میں بھارت کی جانب سے روس کی حمایت کے جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق بھارت نے ماسکو کے ساتھ تجارتی اور توانائی تعلقات بڑھا کر عالمی پابندیوں کو کمزور کیا ہے۔ بھارتی ایکسپورٹرز کے مطابق، امریکی اقدام بھارت کی امریکا کو ہونے والی 87 ارب ڈالر کی برآمدات میں سے تقریباً 55 فیصد کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں بھارتی ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، آٹوموبائل پارٹس اور زرعی مصنوعات کی برآمدات کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔







Discussion about this post