شکاگو میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کے ایلمنائی ایسوسی ایشن کے چیکاگو چیپٹر کے زیراہتمام ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں امریکہ کے مڈ ویسٹ سے تعلق رکھنے والے آئی بی اے کے سابق طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس اہم اجتماع میں قونصل جنرل آف پاکستان شکاگو، جناب طارق کریم، مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے اور اپنے پُراثر خطاب سے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ یہ تقریب نہ صرف آئی بی اے کے فارغ التحصیل افراد کو باہم جوڑنے کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے کمیونٹی کی تشکیل، پیشہ ورانہ ترقی، اور تعلیمی و ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم مہیا کیا۔ قونصل جنرل طارق کریم نے اس موقع پر آئی بی اے کے عالمی سطح پر پھیلتے ہوئے اثرات کو سراہا اور کہا کہ اس ادارے کے سابق طلبہ دونوں ملکوں – پاکستان اور امریکہ – میں علم، قیادت اور ترقی کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔

اپنے خطاب میں طارق کریم نے نیٹ ورکنگ، رہنمائی (Mentorship) اور پیشہ ورانہ روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی بی اے کے سابق طلبہ باہمی سیکھنے، رہنمائی فراہم کرنے، اور کاروباری مواقع تلاش کرنے کے سفر میں ایک دوسرے کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستانی نژاد پیشہ ور افراد کو امریکی بزنس اسکولز اور اداروں کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینا چاہیے تاکہ تعلیمی و کاروباری ہم آہنگی کو مزید تقویت دی جا سکے۔ قونصل جنرل نے پاکستان اور امریکہ کے مابین ادارہ جاتی سطح پر تعلیمی شراکت داریوں اور علمی تبادلہ پروگرامز کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی بی اے جیسے ادارے اگر امریکی تعلیمی اداروں سے اشتراک عمل کریں تو دونوں ممالک کے طلبہ کو نئے مواقع میسر آئیں گے اور باہمی سیکھنے کا دائرہ وسیع تر ہو گا۔ اس تقریب کے دوران آئی بی اے ایلمنائی کمیونٹی کی طرف سے قونصل جنرل طارق کریم کو ایک اعزازی سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا گیا، جس میں امریکہ میں پاکستانی پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو فروغ دینے اور دوطرفہ روابط کی بہتری میں ان کے کردار کو سراہا گیا۔ یہ اجتماع آئی بی اے کے فارغ التحصیل افراد کے لیے نہ صرف پیشہ ورانہ امکانات کا ذریعہ بنا بلکہ مشترکہ ثقافتی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنے، تجربات کے تبادلے، اور مستقبل میں باہمی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ اس موقع نے اس امر کی تصدیق کی کہ تعلیم، ترقی اور اتحاد ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط اور مربوط عالمی برادری کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔







Discussion about this post