امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے ایک تاریخی اور انتہائی متنازعہ سماعت کے دوران جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے براہ راست معافی مانگنے سے انکار کر دیا، جس نے واشنگٹن کی سیاست کو ایک نئی شدت بخش دی ہے۔ ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کی بدھ کی سماعت میں، جہاں ایپسٹین کے متعدد متاثرین موجود تھے، ڈیموکریٹک نمائندہ پرمیلا جے پال نے ایک دل دہلا دینے والا لمحہ پیدا کیا۔ انہوں نے کمرے میں بیٹھے متاثرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ جو لوگ اب تک محکمہ انصاف کے حکام سے نہیں مل سکے، براہ مہربانی اپنا ہاتھ اٹھائیں۔ اس درخواست پر تقریباً تمام متاثرین نے ہاتھ اٹھا دیے. یہ منظر ان کی تکلیف اور محروم رہ جانے کی خاموش گواہی تھا۔ پرمیلا جے پال نے پھر پام بونڈی کو براہ راست چیلنج کیا: کیا آپ اب ان کی طرف مڑ کر محکمہ انصاف کے رویے پر معذرت کریں گی؟ خاص طور پر ایپسٹین فائلز کی ریلیز میں غلطیاں اور ناکافی ریڈیکشنز کی وجہ سے متاثرین کو مزید تکلیف پہنچنے پر۔ لیکن پام بونڈی نے نہ تو متاثرین کی طرف مڑ کر دیکھا اور نہ ہی معافی قبول کی۔ انہوں نے اپنے پیشرو میرک گارلینڈ کا حوالہ دے کر بات ٹالنے کی کوشش کی۔

جب پرمیلا جے پال نے درخواست دہرائی تو بونڈی نے سخت لہجے میں کہا کہ وہ بالکل معافی نہیں مانگیں گی، اور اسے "تھیٹر” اور "گٹر” کی سیاست قرار دیا۔ کمیٹی کے رینکنگ ممبر اور ڈیموکریٹک نمائندہ جیمی راسکن نے بھی بونڈی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ انصاف مجرموں کا ساتھ دے رہا ہے اور متاثرین کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس پر بونڈی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے راسکن کو "ہارا ہوا وکیل” اور "وکیل بھی نہیں” کہہ کر ذاتی حملہ کیا، جس نے سماعت کو مزید تلخ کر دیا۔ یہ سماعت نہ صرف ایپسٹین کیس کی فائلوں کی ہینڈلنگ, جہاں کچھ نام چھپائے گئے اور متاثرین کی پرائیویسی کو خطرہ پہنچا بلکہ انصاف کی فراہمی، طاقتور طبقے کی حفاظت اور متاثرین کی آواز کو دبانے کے الزامات کا مرکز بن گئی۔ متاثرین نے بعد میں بیان دیا کہ انہیں "ڈیگریڈڈ” اور "بے توجہی” کا احساس ہوا، جبکہ بونڈی نے ایپسٹین کو "وحشی” کہہ کر عام معذرت تو کی، مگر محکمہ انصاف کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔







Discussion about this post