امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا ہے، جب انہوں نے فلوریڈا میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کی امید افزا تصویر کشی کی۔ ان کے الفاظ میں ایک نئی امید کی کرن جھلک رہی تھی، جب انہوں نے کہا کہ ایران شدت سے، بلکہ "بہت شدت سے” معاہدہ کرنے کا خواہشمند نظر آ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ صرف ایک ہی بنیادی اصول پر قائم ہو گا: ایران کے پاس کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ "یہ بنیادی بات ہے،” انہوں نے زور دے کر کہا، "کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔ پہلے وہ اس کے لیے تیار نہیں تھے، مگر اب وہ آمادہ ہیں۔” یہ الفاظ نہ صرف ایک سفارتی پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ایک طویل تنازعے کے پرامن حل کی طرف ایک اہم قدم بھی معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عمان میں ہونے والی حالیہ بالواسطہ بات چیت "بہت اچھی” رہی، اور اب اگلے ہفتے کے اوائل میں دوبارہ ملاقات متوقع ہے۔ "ہماری ایران کے ساتھ بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے،” ٹرمپ نے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ ایران بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ آج ایران کے حوالے سے ہمیں کچھ نتائج بھی ملے ہیں۔” یہ بیان ایک ایسے لمحے میں آیا جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، مگر صدر کے لہجے میں پرامن حل کی طرف رجحان نمایاں ہے۔ یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک ممکنہ تاریخی موڑ ہے جہاں دباؤ اور سفارت کاری کا امتزاج ایران کو میز پر واپس لا رہا ہے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ معاہدے کے لیے ایران کو پہلے "پوزیشن میں آنا” پڑے گا، یعنی اپنے موقف میں لچک دکھانی ہو گی۔ اگر یہ کامیاب ہوا تو یہ نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام کو روکے گا بلکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کی ایک نئی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ دنیا کی نظریں اب اگلے ہفتے کی ملاقات پر مرکوز ہیں، جہاں یہ دیکھنا ہے کہ یہ امید کی کرن حقیقت کی شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک طاقتور پیغام ہے: سفارت کاری ممکن ہے، مگر صرف سخت شرائ







Discussion about this post