امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف سخت نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران سے کسی بھی قسم کی تجارت کرے گا، اسے امریکا کے ساتھ ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہ فیصلہ فوراً نافذ العمل ہوگا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ ایران سے کاروباری روابط رکھنے والے ممالک کو امریکی منڈی میں اضافی محصولات برداشت کرنا ہوں گے، جو عالمی تجارتی ماحول پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے رابطہ کیا ہے، اور امریکا مذاکرات کے لیے آمادگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے، مگر سخت اقتصادی پابندیوں کی دھمکی برقرار رہے گی۔ یورپی یونین بھی ایران پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کے امکان پر غور کر رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی کا امکان بھی شامل ہے۔






Discussion about this post