امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ میں امن و استحکام کے لیے مجوزہ عالمی فورس میں شمولیت پر غور کرنے کے اعلان کو واشنگٹن نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور اس ضمن میں پاکستان کے تعاون کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے اس بین الاقوامی مشن میں حصہ لینے کی آمادگی ایک ذمہ دار ریاست کے کردار کی عکاس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فورس کے دائرہ اختیار، قیادت کے نظام اور مالی انتظامات پر ابھی غور و خوض جاری ہے، تاہم اگر پاکستان باضابطہ طور پر اس کا حصہ بنتا ہے تو اس سے اس اقدام کی ساکھ اور افادیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق مستقبل کا لائحہ عمل ایک ایسے امن بورڈ اور فلسطینی ماہرین پر مشتمل انتظامی سیٹ اپ کے قیام سے جڑا ہے جو غزہ میں شہری نظام، انتظامی معاملات اور بحالی کے مراحل کو آگے بڑھائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ انتظامی خاکہ مکمل ہو گا، سٹیبلائزیشن فورس کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔تاہم مارکو روبیو کے اس بیان پر اسلام آباد کی جانب سے فی الحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ پاکستان غزہ میں امن کے قیام کے لیے عالمی کوششوں کا حصہ بننے پر آمادہ ہے، مگر کسی بھی فلسطینی گروہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہوگا۔

یہ فورس بنیادی طور پر مسلم ممالک کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہو گی اور اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جس کا اعلان گزشتہ برس ستمبر میں کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 18 دسمبر کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کی تھی کہ پاکستان نے اس ضمن میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نومبر 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ایک عبوری انتظامیہ کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جو علاقے میں نگرانی، سلامتی اور فوجی اثر و رسوخ کے خاتمے کی ذمہ دار ہو گی۔ اس منصوبے کے مطابق اس عبوری اتھارٹی کی قیادت امریکی صدر کریں گے۔ پاکستان نے سلامتی کونسل میں اس قرارداد کی حمایت کی تھی اور اقوام متحدہ میں اس کے نمائندے نے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور فلسطینی خودمختاری کی بھرپور حمایت کے عزم کو دہرایا تھا۔یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک نیا سفارتی باب کھل رہا ہے، جس میں پاکستان کا ممکنہ کردار نہ صرف خطے بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔






Discussion about this post