ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کا ویزا حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے قواعد کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق اب ہر درخواست گزار کے گزشتہ پانچ برس کے سوشل میڈیا ریکارڈ کی باریک ترین تفصیلات تک چھان بین کی جائے گی، تاکہ یہ پرکھا جاسکے کہ انہوں نے کبھی امریکا مخالف، یہود مخالف یا دہشت گرد سرگرمیوں سے متعلق مواد تو شیئر نہیں کیا۔ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن نے اس فیصلے کا باضابطہ نوٹس فیڈرل رجسٹر میں جاری کر دیا ہے، جس سے یہ نیا طریقہ کار ایک لازمی شرط کے طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ تاہم یہ اب تک واضح نہیں کہ اس سخت پالیسی پر عمل کب سے شروع ہوگا۔ فیصلے کے تحت امریکی سٹیزن شپ اور امیگریشن سروسز نہ صرف سوشل میڈیا سرگرمیوں کی چھان بین کرے گی بلکہ درخواست دہندگان کے ای میل پتے، فون نمبرز اور اہم ذاتی معلومات بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق معمولی نوعیت کی امریکا مخالف پوسٹس بھی اب ویزا مسترد ہونے کا سبب بن سکتی ہیں، اور خدشہ ہے کہ حکام سیاسی یا نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر بھی فیصلہ دے سکتے ہیں۔ اس سے پہلے امریکی محکمہ خارجہ نے سیاحوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پوسٹس کو پبلک رکھیں، جبکہ گزشتہ برس ٹرمپ انتظامیہ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ مستقبل میں ویزا اور گرین کارڈ کے امیدواروں کی سوشل میڈیا تاریخ کا باقاعدہ تجزیہ کرے گی۔ ٹرمپ حکومت پہلے ہی 19 ممالک کے شہریوں کے لیے امریکا کی سرزمین کے دروازے بند کر چکی ہے، اور اب اس فہرست کو بڑھا کر 30 ممالک تک لے جانے پر غور جاری ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس نئی سخت نگرانی کا اطلاق برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک پر بھی کیا جا سکتا ہے، جو برسوں سے ویزا چھوٹ کے مراعات یافتہ تھے۔







Discussion about this post