وائٹ ہاؤس کے قریب افغان نژاد شہری کی جانب سے نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اس کے فوری بعد ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے عارضی طور پر منجمّد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے ایکس پر کہا کہ جب تک ہر غیر ملکی کی مکمل چھان بین اور جانچ پرکھ یقینی نہیں ہو جاتی، پناہ گزینوں کے کیسز پر کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔ اسی واقعے کے تناظر میں واشنگٹن میں گرفتار افغان نژاد امریکی شہری رحمان لکنوال کے خلاف فرسٹ ڈگری قتل سمیت مزید سنگین الزامات عائد کیے جانے کی تیاری جاری ہے۔ امریکی اٹارنی جینین پیرو کے مطابق حملہ آور نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے چند قدم فاصلے پر ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس میں ایک بہادر خاتون اہلکار سارہ بیک اسٹارم شدید زخمی ہوئیں اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 29 سالہ لکنوال افغانستان سے تعلق رکھتا ہے، امریکی شہری ہے اور ماضی میں افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کر چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے نفرت، برائی اور دہشت گردی کا شنیع عمل قرار دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور 2021 میں ان خصوصی پروازوں کے ذریعے امریکہ پہنچا تھا جن سے افغان شہریوں کا انخلا کیا جا رہا تھا۔ واقعے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز نے اعلان کیا کہ افغان شہریوں کے کیسز کی پروسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے، جس سے ہزاروں افراد کے لیے امریکہ کا آخری محفوظ راستہ بھی بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی پس منظر میں صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایک اور سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ امریکہ تیسری دنیا کے ممالک سے نقل مکانی کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سابق صدر بائیڈن کے دور میں دی گئی لاکھوں منظوریوں کو منسوخ کر دیں گے اور ایسے تمام افراد کو ملک سے نکال باہر کریں گے جو امریکہ کے لیے اثاثہ ثابت نہیں ہوتے۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ مستقبل میں غیر امریکی شہریوں کے لیے تمام وفاقی فوائد اور سبسڈیز ختم کر دی جائیں گی، جبکہ سکیورٹی رسک یا مغربی تہذیب سے متصادم عناصر کو بغیر تاخیر ملک بدر کیا جائے گا۔ یہ واقعات اور بیانات امریکہ کی امیگریشن پالیسی میں ایک نئے اور بے حد سخت موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف افغان شہریوں بلکہ دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں پر پڑ سکتے ہیں۔







Discussion about this post