برطانوی شاہی محل سے ایک اور حیران کن اور غیر معمولی فیصلہ سامنے آ گیا ہے، جہاں کنگ چارلس نے اپنے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے باقی ماندہ تمام شاہی اعزازات بھی باقاعدہ طور پر واپس لے لیے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اینڈریو اب کسی بھی شاہی خطاب یا اعزاز کے حقدار نہیں رہے۔ انہیں نہ صرف آرڈر آف دی گارٹر کی رکنیت سے محروم کر دیا گیا ہے بلکہ نائٹ آف دی گرانڈ کراس آف دی رائل وکٹوریہ آرڈر کا اعزاز بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ آرڈر آف دی گارٹر برطانیہ کا قدیم ترین اور نہایت باوقار اعزاز سمجھا جاتا ہے جو مملکت کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے، جبکہ نائٹ آف دی گرانڈ کراس بادشاہ کے لیے خصوصی خدمات سرانجام دینے والی شخصیات کو عطا کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں اعزازات اب اینڈریو کے سرکاری ریکارڈ سے بھی مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔ اس سے قبل ایک ماہ پہلے ان سے “پرنس” کا خطاب بھی واپس لے لیا گیا تھا، جو ان کے لیے ایک واضح اور فیصلہ کن پیغام تھا۔

اطلاعات کے مطابق یہ سخت فیصلہ کنگ چارلس نے شہزادہ ولیم سے مشاورت کے بعد کیا، اور حیران کن طور پر خود اینڈریو نے بھی اس پر رضامندی ظاہر کی۔ شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ بادشاہ اس نتیجے پر مطمئن ہیں اور اسے شاہی وقار کی بحالی کی جانب ایک ضروری قدم قرار دے رہے ہیں۔ مزید یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رائل نیوی جلد ہی اینڈریو کو وائس ایڈمرل کے عہدے سے بھی ہٹا سکتی ہے۔ چند ہفتے قبل کنگ چارلس انہیں اس رہائش گاہ سے بھی نکلوا چکے ہیں جہاں وہ گزشتہ دو دہائیوں سے مقیم تھے، جو اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ شاہی خاندان اب ان کے لیے مزید کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ اب اینڈریو نہ ڈیوک آف یارک کہلائیں گے، نہ پرنس، اور نہ ہی شاہی اشرافیہ کی فہرست میں ان کا کوئی مقام باقی رہے گا۔ مبصرین کے مطابق آئندہ انہیں کبھی بھی بادشاہ یا کسی سینئر شاہی فرد کے ساتھ کسی عوامی تقریب میں نہیں دیکھا جائے گا۔ تاہم شاہی روایات کے مطابق وہ بدستور تختِ برطانیہ کی وراثتی قطار میں آٹھویں نمبر پر موجود رہیں گے، اگرچہ عملی طور پر ان کا کردار ختم سمجھا جا رہا ہے۔







Discussion about this post