متحدہ عرب امارات اپنی محفوظ طرزِ زندگی، متنوع ثقافتی ماحول اور وسیع معاشی مواقع کے باعث دنیا بھر کے غیر ملکیوں کے لیے پرکشش ملک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں مختلف اقسام کے ویزے اور داخلے کے اجازت نامے دستیاب ہیں، لیکن سب سے زیادہ مقبول اور منفرد سہولت 10 سالہ گولڈن ویزا ہے۔
گولڈن ویزا کیا ہے؟
گولڈن ویزا ایک طویل المدت رہائشی ویزا ہے جو حاملین کو بغیر کسی اسپانسر یا آجر کے یو اے ای میں رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس ویزے کی خصوصیت یہ ہے کہ حاملین 6 ماہ سے زیادہ عرصہ بیرونِ ملک قیام کر سکتے ہیں اور ہر 10 سال بعد اس کی تجدید ممکن ہے۔
کن افراد کے لیے دستیاب ہے؟
یہ ویزا مختلف شعبوں کے ہنر مند اور باصلاحیت افراد کے لیے مخصوص ہے، جن میں شامل ہیں:
-
سرمایہ کار اور رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار
-
کاروباری شخصیات اور موجد
-
ثقافت و فنون کے ماہرین
-
ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور پروفیشنلز
-
کھلاڑی، سائنسدان اور انجینئر
-
نمایاں طلبہ اور تعلیمی ماہرین
-
انسانیت کی خدمت کرنے والے افراد اور فرنٹ لائن ہیروز
حالیہ برسوں میں دبئی نے بہترین طلبہ، کانٹینٹ کریئیٹرز اور گیمرز کے لیے بھی گولڈن ویزا متعارف کرایا ہے، جبکہ راس الخیمہ نے شاندار اساتذہ کو اس سہولت سے نوازا ہے۔
شرائط اور تقاضے
-
دبئی میں پیشہ ور افراد کے لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ 30 ہزار درہم مقرر ہے۔
-
سرمایہ کاروں کے لیے کم از کم 2 ملین درہم کی جائیداد یا سرمایہ کاری فنڈ میں سرمایہ کاری لازمی ہے۔
-
درخواست دہندہ وفاقی ادارہ شناخت و شہریت اور کسٹمز کے ذریعے آن لائن اپلائی کر سکتا ہے۔
اہم فوائد
-
10 سالہ رہائشی ویزا اور باقاعدہ تجدید کی سہولت
-
بیرونِ ملک 6 ماہ سے زیادہ قیام کی اجازت
-
خاندان کے افراد کو اسپانسر کرنے کا حق
-
ملازمت کے بغیر بھی یو اے ای میں رہنے کا اختیار
مسترد ہونے کی عام وجوہات
گولڈن ویزا کی درخواست مسترد بھی ہو سکتی ہے اگر:
-
درخواست دہندہ کا جاب ٹائٹل غیر موزوں ہو
-
تعلیمی ڈگری قانونی تقاضوں کے مطابق نہ ہو
-
یا بنیادی شرائط پوری نہ کی گئی ہوں۔







Discussion about this post