امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تاریخی اور متنازعہ فیصلہ کرتے ہوئے سابق صدر بارک اوباما کے دور کا وہ سنگِ میل سائنسی فیصلہ منسوخ کر دیا ہے جو گرین ہاؤس گیسز کو عوامی صحت کے لیے خطرہ قرار دیتا تھا۔ یہ "اینڈینجرمنٹ فائنڈنگ” 2009 میں جاری کی گئی تھی اور امریکی وفاقی قوانین کی بنیاد بنی تھی، خاص طور پر گاڑیوں سے اخراج کم کرنے والے ضوابط کی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اسے "امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈی ریگولیشن” قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔ وائٹ ہاؤس اور ای پی اے کے مطابق اس اقدام سے گاڑیاں سستی ہو جائیں گی، آٹو انڈسٹری کو فی گاڑی تقریباً 2400 ڈالرز تک لاگت میں کمی آئے گی، اور امریکی خاندانوں کو اربوں ڈالرز کی بچت ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے اسے "او باما دور کی تباہ کن پالیسی” کہا جو امریکی صنعت اور صارفین پر بوجھ ڈال رہی تھی۔ ماحولیاتی ماہرین اور تنظیموں نے اسے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ پر اب تک کا سب سے شدید حملہ قرار دیا ہے۔ ماحولیاتی گروپس نے عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ سابق صدر اوباما نے سوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکیوں کو کم محفوظ، کم صحت مند اور موسمیاتی بحران سے لڑنے میں کمزور بنا دے گا, صرف فوسل فیول انڈسٹری کو مزید منافع کے لیے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ فیصلہ ایک اور سنگین دھچکا ہے۔

پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے فرنٹ لائن پر کھڑا ہے، بڑھتا درجہ حرارت، شدید سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، اور زرعی پیداوار پر اثرات اس کی معیشت اور خوراک کے نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کم کرنے کے اقدامات مزید کمزور پڑتے ہیں تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر اثرات انتہائی شدید ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی اخراج میں اضافہ لائے گا، جو پاکستان کی زراعت، پانی کے وسائل اور غربت کے خلاف جنگ کو مزید مشکل بنا دے گا۔







Discussion about this post