بھارت کے جنگ بندی کے دعووں کے پیچھے چھپی کہانی اب کھل کر سامنے آ گئی ہے، اور حقائق نے دہلی کے سفارتی بیانیے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ جس دن پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی، اسی روز بھارتی سفارتخانہ امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کی اعلیٰ ترین شخصیات سے مسلسل رابطے میں تھا۔ امریکی محکمۂ انصاف میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق 10 مئی کو بھارتی سفارتکاروں نے باقاعدہ طور پر ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں، جس کے ذریعے وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز سمیت دیگر بااثر حکام تک رسائی حاصل کی گئی۔ حیران کن طور پر جس لابنگ فرم کو بھارت نے ہائر کیا، اس کے سربراہ کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تصویر بھی منظر عام پر آ چکی ہے، جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد بھارتی دارالحکومت کے سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ معروف بھارتی اخبار دی ہندو کی ایڈیٹر سوہاسنی حیدر نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت وائٹ ہاؤس سے روابط اور امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے براہِ راست سفارتی ذرائع کے بجائے لابنگ فرموں پر انحصار کرتا رہا ہے۔

امریکی لابنگ فرم نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقاتیں انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھیں۔ یہی نہیں، بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری بھی انہی خدمات سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل رہے ہیں، جس سے بھارت کی سفارتی کمزوری کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ سفارتی محاذ پر بھارت کو ایک اور سبکی اس وقت اٹھانا پڑی جب یہ انکشاف ہوا کہ نریندر مودی کو صدر ٹرمپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی لابنگ فرم کا سہارا لینا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق مودی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ صدر ٹرمپ تک پہنچانے کے لیے 18 لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے، جس پر خود بھارتی صحافیوں نے مودی حکومت کی نااہلی کو بےنقاب کر دیا۔

مزید انکشافات میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو اپنے امریکی ہم منصب تک براہِ راست رسائی حاصل نہیں۔ بھارتی صحافی سوشانت سنگھ کے مطابق جے شنکر نہ مارکو روبیو سے وقت لے سکتے ہیں اور نہ ہی پیٹ ہیگستھ سے ملاقات کے اہل سمجھے جاتے ہیں، اسی لیے بھارتی سفارتخانہ ہر اہم ملاقات کے لیے لابنگ فرموں کا سہارا لیتا ہے۔ معروف صحافی راجو پارولیکر کا کہنا ہے کہ نریندر مودی یکطرفہ بیانات دینے کے عادی ہیں اور گیارہ برسوں میں وہ ایک بھی آزادانہ پریس کانفرنس نہ کر سکے۔ اس بیانیے کی تصدیق گزشتہ روز خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کر دی، جب میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مودی جانتے ہیں میں ناراض ہوں، اسی لیے وہ مجھے خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تمام حقائق اس دعوے کو بے نقاب کرتے ہیں کہ بھارت نے جنگ بندی کسی طاقت کے بل پر نہیں بلکہ سفارتی بے بسی اور امریکی حمایت حاصل کرنے کی مجبوری کے تحت کی۔







Discussion about this post