نیویارک کے نومنتخب میئر زہران ممدانی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان جمعے کو ہونے والی ملاقات نے ملکی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ ٹرمپ کے بارہا سخت بیانات اور تلخ انتخابی مہم کے باوجود دونوں رہنما وائٹ ہاؤس میں آمنے سامنے ہوں گے اور یہی اس ملاقات کو غیر معمولی بنا دیتا ہے۔ مہم کے دوران ٹرمپ نے زہران ممدانی کو بارہا “کمیونسٹ” کہہ کر نشانہ بنایا، ان کے جنوبی ایشیائی نام پر طنز کیا، یہاں تک کہ نیویارک کے لیے وفاقی فنڈنگ روکنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ لیکن سیاست اپنی جگہ، روایتی طور پر نومنتخب میئر کا صدر سے ملاقات کرنا لازم ہوتا ہے اور زہران ممدانی بھی اسی روایت کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ میئر کے ترجمان ڈورا پیکک کے مطابق زہران ممدانی اس ملاقات میں عوامی تحفظ، معاشی استحکام، رہائش، بچوں کی نگہداشت، مفت بسوں اور سرکاری گروسری اسٹورز جیسے عوامی فلاحی منصوبوں کا ایجنڈا پیش کریں گے وہی ایجنڈا جس کی بنیاد پر 10 لاکھ سے زائد نیویارکرز نے انہیں ووٹ دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ اور ممدانی دونوں نیویارک کے علاقے کوئنز میں پلے بڑھے، مگر سیاسی نظریات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ٹرمپ سرمایہ دارانہ پالیسیوں اور وال اسٹریٹ کی کامیابیوں کو اپنی صدارت کی پہچان سمجھتے ہیں، جبکہ زہران ممدانی خود کو ’ڈیموکریٹک سوشلِسٹ‘ کہتے ہیں اور عوامی سہولتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے انتخابی جلسوں میں ممدانی کے نام کا مذاق اڑاتے ہوئے حتیٰ کہ انہیں “ماندامی یا جو کچھ بھی ان کا نام ہے” تک کہا۔ لیکن میئر کے انتخاب جیتنے کے بعد زہران ممدانی نے بھی بھرپور جواب دیتے ہوئے اپنی فتح کی تقریر میں امریکی صدر کو براہِ راست مخاطب کیا: “مجھے پتا ہے آپ دیکھ رہے ہیں تو آواز ذرا اونچی کر لیجیے۔” بعد میں ٹرمپ کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق بھی کر دی کہ صدر واقعی وہ تقریر دیکھ رہے تھے۔ اب سب کی نظریں اس ملاقات پر ہیں , ایک ایسا لمحہ جو دو مختلف سیاسی دنیاؤں کے ٹکرانے، مکالمے اور شاید کسی ممکنہ نئی سمت کا اشارہ بھی بن سکتا ہے۔








Discussion about this post