امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ کے دوران آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے اور انہوں نے ذاتی طور پر دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ میامی میں ایک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے عالمی تجارتی اور سفارتی اقدامات پر گفتگو کی اور بتایا کہ ایک اہم معاہدے پر دستخط کرنے ہی والے تھے کہ اچانک انہیں اطلاع ملی، “سات یا آٹھ طیارے گرائے گئے ہیں۔” ان کے مطابق، اس لمحے انہوں نے معاہدہ روک دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ دونوں ہمسایہ ممالک مکمل جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ اور تجارتی دباؤ کے ذریعے اس ممکنہ جنگ کو روک دیا۔ ان کے الفاظ میں، “بہت سے اخبارات نے مختلف خبریں دیں، کچھ نے کہا سات طیارے گرائے گئے، کچھ نے آٹھ، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں نے ٹیرف کی طاقت سے ایک بڑی جنگ ٹال دی۔”

صدر کے اس بیان پر بھارت نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی تیسرے فریق کا تنازعے میں کوئی کردار نہیں تھا اور تمام فیصلے بھارت نے خود کیے۔اپنی تقریر کے اختتام پر ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکی سیاست کی طرف رخ کیا اور نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہیں ممدانی نیویارک میں کیسا کام کرتے ہیں، ہم ان کی تھوڑی مدد کریں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ نیویارک کے عوام نے بائیں بازو کے رہنما کو منتخب کر کے امریکہ کی خودمختاری داؤ پر لگا دی ہے۔ ان کے مطابق، “ایک کمیونسٹ ملک کے سب سے بڑے شہر کا میئر بن گیا ہے، اب دیکھتے ہیں وہ کیسا طرزِ حکمرانی اپناتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں نیویارک کامیاب ہو، مگر وقت ہی بتائے گا وہ کیا کرتے ہیں۔”ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ گفتگو ایک طرف عالمی سیاست کی یاد دلاتی ہے تو دوسری جانب امریکی داخلی سیاست میں ایک نئے باب کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔







Discussion about this post