امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی تاریخی ملاقات جنوبی کوریا کے شہر بوسان کے ایئربیس پر ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کم کرنے کی امید ظاہر کی۔ یہ ملاقات 2019 کے بعد ان کی پہلی آمنے سامنے ملاقات تھی اور ٹرمپ کے ایشیائی دورے کا آخری مرحلہ بھی۔ رائٹرز کے مطابق، ملاقات کے آغاز پر ٹرمپ نے مصافحہ کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے یقین ہے یہ ملاقات بہت کامیاب رہے گی، البتہ صدر شی ایک سخت مذاکرات کار ہیں۔‘‘ شی جن پنگ نے بھی جواباً کہا کہ بڑی معیشتوں کے درمیان اختلافات ہونا معمول کی بات ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان چند روز قبل مذاکرات کاروں نے بنیادی خدشات پر اہم پیش رفت کی ہے۔ یہ ملاقات ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن (اے پیک) اجلاس کے موقع پر تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ان کی گاڑی تک الوداع کیا، جب کہ انہیں خود ایئرپورٹ پر سرخ قالین سے رخصت کیا گیا۔ تاہم دونوں ممالک نے ابھی تک مذاکرات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ اس ملاقات کے بعد چینی اسٹاک مارکیٹ دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ یوآن کی قدر میں بھی اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ تجارتی جنگ میں نرمی آئے گی۔ وال اسٹریٹ سے لے کر ٹوکیو تک عالمی منڈیاں مثبت ردعمل دے رہی ہیں۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ کسی سمجھوتے کے قریب ہیں، کیونکہ حال ہی میں کوالالمپور میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت میں پیش رفت ہوئی تھی۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان معاشی اور جغرافیائی مقابلے کی فضا برقرار رہے گی، اس لیے طویل المدتی مفاہمت کے امکانات کم ہیں۔ چین نے حال ہی میں ہائی ٹیک صنعتوں میں استعمال ہونے والے نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندی کا اعلان کیا تھا، جس کے جواب میں ٹرمپ نے 100 فیصد اضافی محصولات اور امریکی سافٹ ویئر پر ممکنہ پابندیوں کی دھمکی دی۔

ملاقات سے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ’’جی ٹو جلد ملاقات کرنے والے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا جوہری تجربات میں اضافہ کرے گا، تاہم انہوں نے اس بیان کی مزید وضاحت نہیں کی۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق، چین نے نایاب معدنیات کی برآمدی پابندی ایک سال کے لیے مؤخر کرنے اور امریکی کسانوں سے سویابین کی خریداری دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ایک ’’بنیادی فریم ورک‘‘ کے تحت طے پانے والا عبوری سمجھوتہ ہے، جسے دونوں رہنما جلد حتمی شکل دیں گے۔ ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات آئندہ سال ٹرمپ اور شی کے درمیان مزید بات چیت کی بنیاد بن سکتی ہے، جس میں ممکنہ طور پر دونوں ممالک کے باہمی دورے بھی شامل ہوں گے۔ تاہم ٹرمپ فوری نتائج کے خواہاں ہیں، کیونکہ عالمی سرمایہ کار ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین سے امریکی مصنوعات پر محصولات کم کرنے کے بدلے فینٹانائل کیمیکل کی ترسیل روکنے کا وعدہ چاہتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی خطرناک مصنوعی منشیات ہے جو امریکا میں ہزاروں اموات کی وجہ بن رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ٹک ٹاک کے معاملے پر بھی پیش رفت ممکن ہے، اگر اس کے چینی مالکان نے اپنی امریکی شاخ فروخت نہ کی تو ایپ پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

دوسری جانب، تائیوان کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ چینی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے جزیرے کے قریب مشقیں کی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ تائیوان کو امریکا-چین بات چیت سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکی قانون کے تحت واشنگٹن تائیوان کے دفاع کے لیے ذمہ دار ہے۔







Discussion about this post