یوٹیوب نے آخرکار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا! 24.5 ملین ڈالر کا دھماکہ خیز تصفیہ طے پا گیا ہے، جس نے سیاسی اور ڈیجیٹل دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ مقدمہ اُس وقت شروع ہوا تھا جب 6 جنوری 2021 کو کیپٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے بعد ٹرمپ کا اکاؤنٹ بند کر دیا گیا تھا۔ اب برسوں بعد یوٹیوب کی مالک کمپنی الفابیٹ نے نہ صرف یہ تنازع ختم کر دیا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر رقوم دینے پر بھی رضا مندی ظاہر کی ہے۔

اس معاہدے کے تحت:
-
22 ملین ڈالر "ٹرسٹ فار نیشنل مال” نامی غیر منافع بخش تنظیم کو ملیں گے، جو وائٹ ہاؤس کے لیے ایک شاندار نیا بال روم تعمیر کرنے کے مشن پر ہے۔
-
باقی 2.5 ملین ڈالر اُن افراد اور تنظیموں کو ملیں گے جنہوں نے ٹرمپ کے ساتھ یہ مقدمہ لڑا، جن میں مشہور امریکن کنزرویٹو یونین بھی شامل ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ بڑی ٹیک کمپنیوں نے ٹرمپ کے ساتھ صلح کا راستہ اپنایا ہو۔ اس سے قبل:
-
فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے جنوری میں 25 ملین ڈالر دے کر معاملہ نمٹایا،
-
جبکہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) نے فروری میں 10 ملین ڈالر کی ادائیگی کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔
یوں یوٹیوب بھی اس قطار میں شامل ہو گیا ہے جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے تعلقات کو سنوارنے اور سیاسی دباؤ کو کم کرنے کی دوڑ میں نظر آتی ہیں۔
یاد رہے، ٹرمپ نے بارہا ان کمپنیوں پر قدامت پسند آوازوں کو دبانے اور سیاسی تعصب کا الزام لگایا تھا۔ لیکن اب منظر نامہ بدل چکا ہے، ان کے اکاؤنٹس بحال ہو چکے ہیں اور کمپنیاں تعلقات کی نئی تاریخ لکھنے میں مصروف ہیں۔







Discussion about this post