عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے اختتام پر ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی غیر رسمی مگر خوشگوار ملاقات نے محفل کا ماحول بدل دیا۔ مصافحے کے اس لمحے میں دوستانہ مسکراہٹیں اور خوشگوار جملے تبادلۂ خیال کا حصہ بنے، اور یوں یہ ملاقات یادگار بن گئی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے، جن کی شمولیت نے اس مختصر نشست کو مزید باوقار بنا دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 25 ستمبر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اہم ون آن ون ملاقات متوقع ہے، جس میں عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی گفتگو کا امکان ہے۔ یہ ملاقات نہ صرف سیاسی منظرنامے میں ایک نیا باب رقم کر سکتی ہے بلکہ خطے میں امن کے امکانات کو بھی نئی جہت دے سکتی ہے۔ اسی دوران، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایک نجی نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر عالمی امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ شہباز شریف نے ٹرمپ کے خطاب کو "اہم نکات سے بھرپور” قرار دیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں ٹرمپ کا کردار کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم نے اپنی گفتگو کے اختتام پر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر مسائل کے پائیدار حل کی جستجو میں سرگرم رہے گا، کیونکہ امن صرف ایک خواب نہیں بلکہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔







Discussion about this post