امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے ثقافت اور تعلیم کے ادارے یونیسکو (UNESCO) سے امریکہ کے انخلا کا حکم دے دیا ہے — یہ وہی اقدام ہے جو اُنہوں نے اپنی پہلی مدت صدارت میں اٹھایا تھا اور جسے صدر جو بائیڈن نے بعد میں واپس لے لیا تھا۔ اس بار انخلا 31 دسمبر 2026 کو مؤثر ہوگا۔ پیرس میں قائم یہ ادارہ 1945 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ تعلیم، سائنس، اور ثقافت کے ذریعے عالمی امن کو فروغ دیا جا سکے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یونیسکو پر تنقید کرتے ہوئے اسے "جاگے ہوئے اور تقسیم پیدا کرنے والے” ثقافتی نظریات کو فروغ دینے والا ادارہ قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا:
"صدر ٹرمپ نے یونیسکو سے امریکہ کے انخلا کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ ادارہ ان ترقی پسند سماجی ایجنڈوں کی حمایت کرتا ہے جو نومبر کے انتخابات میں عوام کی ترجیحی پالیسیوں سے متصادم ہیں۔”
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اس موقف کی تائید کی اور یونیسکو پر "عالمگیریت پسند، نظریاتی ترقیاتی ایجنڈا” چلانے کا الزام لگایا جو "امریکہ فرسٹ” خارجہ پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈری آزولے نے امریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا لیکن کہا کہ ادارے نے اس کے لیے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیسکو نے اپنے مالی ذرائع کو متنوع بنایا ہے اور اب امریکی فنڈنگ اس کے بجٹ کا صرف 8 فیصد بنتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران دیگر عالمی اداروں سے بھی امریکہ کا انخلا کیا تھا، جن میں عالمی ادارہ صحت (WHO)، پیرس ماحولیاتی معاہدہ، اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل شامل ہیں۔ صدر بائیڈن نے اپنے دور حکومت میں زیادہ تر ان فیصلوں کو واپس لیتے ہوئے امریکہ کو ان اداروں کا رکن دوبارہ بنایا، اور یونیسکو میں بھی شمولیت بحال کی اور سابقہ واجبات کی ادائیگی کا وعدہ کیا۔اس انخلا کی ایک اہم وجہ یونیسکو کی جانب سے فلسطین کو مکمل رکن ریاست کے طور پر قبول کرنا بتائی گئی ہے ۔ایک ایسا اقدام جس کی امریکہ کئی برسوں سے مخالفت کرتا آیا ہے اور جسے اسرائیل مخالف بیانیے کے فروغ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسرائیل نے امریکہ کے انخلا کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، جبکہ یونیسکو حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے آٹھ برسوں کے دوران تمام اہم قراردادیں اسرائیل اور فلسطین دونوں کی مشاورت سے منظور کی گئی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آڈری آزولے کا کہنا تھا:
"وہ وجوہات جو امریکہ نے اس بار انخلا کے لیے پیش کی ہیں، وہی سات سال پہلے بھی تھیں، حالانکہ اب حالات کافی حد تک بدل چکے ہیں۔ سیاسی کشیدگیاں کم ہوئی ہیں، اور یونیسکو ایک ایسا فورم بن چکا ہے جو کثیر الجہتی عملی اقدامات پر عالمی اتفاق رائے کو فروغ دیتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی الزامات یونیسکو کی حقیقی کوششوں سے متصادم ہیں، خصوصاً ہولوکاسٹ تعلیم اور سامی دشمنی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے۔ یونیسکو میں موجود سفارتکاروں کے مطابق یہ فیصلہ زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر لیا گیا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ بائیڈن انتظامیہ نے نا صرف امریکہ کی رکنیت بحال کی تھی بلکہ سابقہ مالی واجبات ادا کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔یونیسکو، جس کا مکمل نام اقوام متحدہ کا تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارہ ہے، دنیا بھر کے مشہور ورلڈ ہیریٹیج سائٹس کی فہرست بنانے کے لیے جانا جاتا ہے، جیسے کہ امریکہ کا گرینڈ کینین اور شام کا قدیم شہر پالمیرا۔ امریکہ کا یونیسکو کے ساتھ تعلقات کا ایک پیچیدہ پس منظر ہے۔ امریکہ نے پہلی بار 1984 میں ادارے سے اس وقت علیحدگی اختیار کی تھی جب اسے مالی بدانتظامی اور امریکہ مخالف تعصب کا سامنا تھا، تاہم 2003 میں صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں دوبارہ رکنیت حاصل کی گئی، جب ادارے میں اصلاحات کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔







Discussion about this post