صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو "ڈیپ اسٹیٹ” کے خلاف ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا یعنی ریاستی مشینری میں چھپے ایسے طاقتور حلقے جو منتخب حکومت کی پالیسیوں سے انحراف کرتے ہیں۔
اندرونی ردعمل: جذبات، احتجاج، اور تشویش
سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ محکمہ خارجہ کا سائز غیر ضروری طور پر بڑا ہو چکا ہے، اور اس میں 15 فیصد کمی ضروری ہے۔ لیکن ملازمین کی نمائندہ تنظیم امریکن فارن سروس ایسوسی ایشن (AFSA) نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
"یہ قومی مفادات کے لیے ایک تباہ کن دھچکا ہے۔ دنیا غیر یقینی حالات سے دوچار ہے، اور ایسے میں امریکہ اپنی صفِ اول کی سفارتی قوت کو کمزور کر رہا ہے۔ ہم اس فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔”
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، برطرفی کی اطلاع ای میل کے ذریعے دی گئی۔ فارن سروس کے افسران کو نوٹس کے 120 دن بعد فارغ کیا جائے گا، جب کہ سول سروس کے ملازمین کو 60 دن کے اندر رخصت کیا جائے گا۔

سابقہ عہدیداروں کی تشویش
بائیڈن انتظامیہ میں ترجمان رہنے والے نیڈ پرائس نے اس اقدام کو "اندھا دھند برطرفی” قرار دیتے ہوئے کہا:
"افرادی قوت کم کرنے کا یہ طریقہ نہایت نامناسب، غیر مؤثر اور سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔”
سابق سفیر اور مشرق وسطیٰ میں اعلیٰ سفارتی ذمہ داریاں نبھانے والی باربرا لیف نے سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا:
"یہ کوئی تنظیمِ نو نہیں، یہ تو جھاڑو پھیرنے جیسا اقدام ہے ، جس سے بیرونِ ملک امریکی شہریوں کی حفاظت، قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کو شدید نقصان پہنچے گا۔”

عالمی اثرات اور خدشات
ماہرین کا خیال ہے کہ اس وسیع پیمانے پر کی گئی برطرفیوں سے امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ میں کمی واقع ہوگی، اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور ایسے میں ایک عالمی طاقت کی سفارتی صفوں کو اس طرح سے کمزور کرنا خود اس کی خارجہ حکمت عملی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔







Discussion about this post