امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طوفانی انتباہ جاری کر دیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک نے آبنائے ہرمز کی حفاظت میں امریکا کا ساتھ نہ دیا تو نیٹو کا مستقبل اندھیرے میں ڈوب سکتا ہے۔ برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ رابطوں میں ہے، مگر تہران کسی معاہدے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا تقریباً سات ممالک سے بات چیت کر رہا ہے اور ان سے مطالبہ ہے کہ وہ اس عالمی شریانِ حیات کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔ ٹرمپ کے بقول اسرائیل بھی اس مشن میں امریکا کا پُرجوش ساتھی بن کر سامنے آیا ہے۔ ان کا سخت لہجہ یہ تھا کہ اگر نیٹو کے ارکان نے اس اہم بحران میں تعاون سے انکار کیا تو یہ طاقتور اتحاد ایک سنگین بحران کا شکار ہو جائے گا، جس کا انجام انتہائی تاریک ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ رواں ماہ کے آخر میں شی جن پنگ سے طے پانے والی ملاقات ممکنہ طور پر ملتوی ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ دیدار تب ہی معنی خیز ثابت ہوگا جب آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک اس کی حفاظت کے لیے آگے آئیں۔اس سے قبل ٹرمپ نے جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین اور برطانیہ سمیت کئی طاقتور ممالک سے اپیل کی تھی کہ اپنے جنگی بحری جہاز بھیج کر عالمی تیل کی ترسیل کو یقینی بنائیں۔ مگر دنیا بھر سے اب تک کا ردعمل انتہائی محتاط اور پراسرار ہے؛ کوئی بھی ملک ابھی تک اپنے جہاز بھیجنے کا باضابطہ اعلان نہیں کر سکا، بلکہ اطلاعات کے مطابق فرانس، برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا نے اس تجویز کو ٹھکرا دیا ہے۔ یہ لمحہ عالمی طاقتوں کی آزمائش کا ہے، جہاں ایک تنگ سمندری راستہ نہ صرف تیل کی قیمتوں کو آسمان چھو رہا ہے بلکہ اتحادوں کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بے باک اعلان دنیا کو بتا رہا ہے کہ اب وقت ہے ذمہ داریاں بانٹنے کا، ورنہ تاریخ کے اوراق پر ایک نیا باب لکھا جائے گا۔







Discussion about this post