امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن ارکان کی ایک شاندار کانفرنس میں ایران کے خلاف ایک ایسا جارحانہ اور پرجوش مؤقف اختیار کیا جو تاریخ کی کتابوں میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایران کی کوئی بھی نئی قیادت جو سامنے آئے گی، اسے فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا، جیسے طوفان کی لہریں ساحل کی ریت کو بہا لے جائیں۔ ٹرمپ نے فخر سے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایران پر ایسے عظیم فوجی حملے کر رہے ہیں جو دشمن کی ہر صلاحیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ ان کے مطابق، امریکی فورسز نے ایران کے پانچ ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، اور ایرانی بحریہ کے اکاون جنگی جہازوں کو ایسے تباہ کیا جیسے ستارے آسمان سے گرتے ہیں۔ اب ایرانی جہاز سمندر کی گہرائیوں میں دفن ہو چکے ہیں، جبکہ ان کی ڈرون اور میزائل کی طاقت کو ایسے کمزور کر دیا گیا جیسے کوئی دیوہیکل دیوار ایک جھٹکے میں منہدم ہو جائے۔ ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ آپریشن نہ ہوتا تو ایران محض دو ہفتوں میں ایٹم بم حاصل کر لیتا، جو پوری دنیا کو ایک خوفناک اندھیرے میں ڈبو دیتا۔ دنیا اب ایک مہاکاوی فوجی مہم جوئی کا مشاہدہ کر رہی ہے، جسے "ایپک فیوری” کا نام دیا گیا ہے، اور یہ "آپریشن مڈنائٹ ہیمر” سے بھی زیادہ تباہ کن اور موثر ثابت ہو رہا ہے۔

اپنی پہلی مدت میں فوج کو ایک ناقابل تسخیر قلعہ بنانے والے ٹرمپ اب دوسری مدت میں اس کی پوری قوت کو ایسے استعمال کر رہے ہیں جیسے کوئی عظیم سپہ سالار میدان جنگ میں اترے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور اور شاندار طاقت ہے، اور اب ہر ملک اس کی شان و شوکت کا معترف ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے فخر سے بیان کیا کہ امریکا اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور غالب ہے، اور ہم اسے دوبارہ عظمت کی بلندیوں پر پہنچا رہے ہیں، جیسے سورج افق سے طلوع ہوتا ہے۔ سابق صدر جو بائیڈن کے دور کے افغانستان انخلا کو امریکی تاریخ کا ایک درد ناک زخم قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس نے امریکا کی ساکھ کو چوٹ پہنچائی تھی، مگر اب دنیا امریکا کی عزت اور احترام میں اضافہ دیکھ رہی ہے، جیسے کوئی پرانا زخم مکمل طور پر مندمل ہو جائے۔







Discussion about this post