خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں امریکا اور برطانیہ نے اسرائیل کے لیے سخت سفری انتباہات جاری کر دیے ہیں، جبکہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران سے فوری طور پر نکل جانے کی پرزور ہدایت کی ہے۔ امریکی سفارتخانہ یروشلم نے ایک تازہ سیکیورٹی الرٹ میں اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موجودہ نازک علاقائی حالات کی وجہ سے اپنے سفر کے ارادوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور ممکنہ رکاوٹوں اور غیر متوقع خطرات کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔ برطانوی دفتر خارجہ نے بھی اسرائیل کے لیے نئی اور سخت سفری ہدایات جاری کی ہیں، جن میں برطانوی شہریوں سے غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کی اپیل کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے مزید اضافے سے سفر میں شدید خلل، فضائی پابندیاں اور اچانک خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ادھر برطانیہ، بھارت، اٹلی، اسپین، پولینڈ، آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا فوری مشورہ دیا ہے، جہاں صورتحال انتہائی غیر مستحکم اور خطرناک ہو چکی ہے۔ آسٹریلیا نے تو واضح ہدایت کی ہے کہ شہری جلد از جلد ملک سے روانہ ہو جائیں۔ سیکیورٹی کے سنگین خدشات کی بنا پر برطانیہ نے تہران میں اپنا سفارتخانہ عارضی طور پر بند کر دیا ہے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ایران میں زیر تعلیم کئی پاکستانی طلبہ بھی محفوظ واپسی اختیار کر چکے ہیں۔ فضائی ٹریفک پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں؛ لوفتھانزا گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے صرف دن کے اوقات میں پروازیں چلائے گا، جبکہ ایرانی اور عراقی فضائی حدود سے مکمل گریز کیا جا رہا ہے۔ بعض پروازوں کی منسوخی کا بھی قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکی اور برطانوی حکام نے یقین دلایا ہے کہ وہ پورے خطے کی صورتحال پر گہری اور مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، اور شہریوں کو ہر ممکن احتیاطی تدابیر اپنانے کی تاکید کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے بچا جا سکے۔







Discussion about this post