پاکستان ریلویز نے ایک ایسا اعلان کر دیا ہے جو ملک کی تاریخ کا نیا باب رقم کرے گا۔ لاہور اور کراچی جیسے دو عظیم شہروں کے درمیان اب وقت کا فاصلہ سمٹ کر رہ جائے گا۔ وہ سفر جو آج 20 گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، 2030 تک محض پانچ گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔ یہ ہے پاکستان کی بلٹ ٹرین – رفتار، سہولت اور جدیدیت کی ایک لازوال علامت۔وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق یہ منصوبہ ایم ایل-ون پراجیکٹ کا حصہ ہے، جس کی مالیت 6.7 ارب ڈالر ہے۔ اس کے تحت 1,687 کلومیٹر طویل کراچی تا پشاور ریلوے لائن کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ حیدرآباد، ملتان اور ساہیوال اس خوابیدہ سفر کے بڑے پڑاؤ ہوں گے، جہاں 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی برق رفتار ٹرینیں مستقبل کی جھلک دکھائیں گی۔ یہی نہیں، اس منصوبے میں چین ریلوے کنسٹرکشن کارپوریشن بھی شامل ہے، جو پاکستان کے ریلوے نظام کو نئے پلوں، ڈبل لائنز اور عالمی معیار کے سگنلنگ سسٹمز سے آراستہ کرے گی۔ یوں یہ منصوبہ صرف ٹرینوں کا نہیں بلکہ ایک نئی اقتصادی دھڑکن کا آغاز ہے، جو اربوں ڈالر کے ایندھن کی بچت اور سڑکوں پر بوجھ کم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔

پاکستان ریلویز کا نیٹ ورک آج 7,700 کلومیٹر پر محیط ہے، مگر دہائیوں سے پرانی ٹیکنالوجی اور بدانتظامی نے اسے مشکلات کا شکار بنا رکھا تھا۔ اب حالات بدل رہے ہیں۔ نئی انجنوں کی خریداری، پٹڑیوں کی بحالی اور ڈیجیٹل ٹکٹنگ کے ساتھ ایک ایسا سفر شروع ہو رہا ہے جہاں محفوظ، تیز اور جدید ریلوے پاکستان کی پہچان ہوگی۔ اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق، سرکاری دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ قومی ریلوے نیٹ ورک کے بڑے سیکشنز پر جدید مواصلاتی اور سگنلنگ سسٹمز نصب کیے جا رہے ہیں۔ لانڈھی، جمعہ گوٹھ، بڈل نالہ اور سرحد اسٹیشنز پر کمپیوٹرائزڈ انٹر لاکنگ سسٹم لگایا جا رہا ہے تاکہ حادثات کے خطرات کم سے کم ہوں اور ٹرین آپریشنز ایک نئی شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ اسی کے ساتھ کراچی تا لاہور سیکشن پر جدید ڈیجیٹل مائیکروویو ریڈیو کمیونیکیشن سسٹم نصب ہو رہا ہے، جو بلا تعطل اور محفوظ ڈیٹا ٹرانسمیشن کی ضمانت دے گا۔ راولپنڈی، لاہور، سکھر اور کراچی ڈویژن میں "پش ٹو ٹاک” کمیونیکیشن نیٹ ورک عملے اور کنٹرول روم کو براہ راست جوڑ دے گا، تاکہ ہر لمحہ ہم آہنگی اور بروقت ردعمل ممکن ہو۔ پاکستان ریلویز نے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی 230 نئی ڈیزائن شدہ کوچز شامل کی جائیں گی، جو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ 820 جدید مال برداری ویگنز بھی بیڑے کا حصہ ہوں گی، جو بریکنگ اور مانیٹرنگ کے نئے سسٹمز سے لیس ہوں گی۔ یہ صرف ایک منصوبہ نہیں، بلکہ پاکستان کے عوام کے لیے ایک نئی صبح ہے – وہ صبح جہاں رفتار، سہولت، حفاظت اور ترقی ایک ساتھ چلیں گے۔ بلٹ ٹرین صرف ریلویز کی نہیں، بلکہ پاکستان کے خوابوں کی رفتار ہے۔







Discussion about this post